خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 70 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 70

70 مشن کو پورا کرنے میں خرچ کی کہ جس کی داغ بیل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ڈالی تھی۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کارنامے“ کے موضوع پر 1927ء میں ایک تقریر فرمائی تھی جس میں آپ کے کارناموں کا تذکرہ کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں۔”میں نے آپ کے کاموں کی تعداد 15 بتائی ہے۔لیکن اس کے یہ معنے نہیں کہ آپ کا کام یہیں ختم ہو گیا ہے آپ کا کام اس سے بہت وسیع ہے اور جو کچھ کہا گیا ہے یہ اصولی ہے اور اس میں بھی انتخاب سے کام لیا گیا ہے اگر آپ کے سب کاموں کو تفصیل سے لکھا جائے تو ہزاروں کی تعداد سے بھی بڑھ جائیں گے اور میرے خیال میں اگر کوئی شخص انہیں کتاب کی صورت میں جمع کر دے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ منشاء پورا ہو سکتا ہے جو آپ نے براہین احمدیہ میں ظاہر فرمایا ہے اور وہ یہ کہ اس کتاب میں اسلام کی تین سو خو بیاں بیان کی جائیں گی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ وعدہ اپنی مختلف کتابوں کے ذریعہ پورا کر دیا۔آپ نے اپنی کتابوں میں تین سو سے بھی زائد خوبیاں بیان فرما دیں اور میں یہ ثابت کرنے کے لئے تیار ہوں۔“ انوار العلوم جلد 10 صفحہ 203 خود حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے بھی اس خواہش کے مد نظر 1928ء سے 1936ء تک یہ تقریر میں اسی سلسلہ میں کیں جو فضائل القرآن کے نام سے شائع ہو چکی ہیں ان تقاریر سے بھی حضور کا منشا تھا کہ قرآن کریم کی فضیلت کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو تین سو دلائل دینے کا براہین احمدیہ میں وعدہ فرمایا تھا اسے ظاہری طور پر پورا فرماویں۔مگر اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت یہ تقاریر نا تمام رہیں اور بعض اور قرآنی مضامین کے متعلق حضور تقاریر فرماتے رہے۔حضرت اماں جان کی عزت واحترام :۔حضرت اماں جان کی عزت اور احترام کا مشاہدہ تو اپنی آنکھوں سے کیا ہے۔ایک دفعہ ایک عورت نے آپ سے شکایت کی کہ میرا بیٹا میرا خیال نہیں رکھتا ہے آپ سمجھا ئیں۔آپ بے اختیار رو پڑے اور کہنے لگے مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کوئی بیٹا ماں سے بُر اسلوک کر ہی کیسے سکتا ہے۔حضرت اماں جان کا خود با وجود عدیم الفرصتی کے بہت خیال رکھتے تھے اور اپنی بیویوں سے بھی یہی امید رکھتے تھے کہ وہ حضرت اماں جان کا خیال رکھیں۔کبھی فراغت ہوئی تو حضرت اماں جان کے پاس بیٹھ جاتے۔آپ کو کوئی واقعہ یا کہانی سناتے