خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 69 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 69

درس کے سلسلے میں ایک واقعہ:۔درس کے سلسلہ میں ایک اور واقعہ یاد آیا قرآن مجید کے درس کے ساتھ آپ نے کچھ عرصہ بخاری شریف کا درس بھی عورتوں میں دیا تھا۔گو وہ زیادہ لمبا عرصہ جاری نہ رہ سکا ایک یا دو پاروں کا درس ہوا تھا ایک دن آپ نے درس دیتے ہوئے آنحضرت ﷺ کا آخری حج کا واقعہ بیان فرمایا اور جب یہ الفاظ بیان فرمائے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس طرح یہ مہینہ مقدس ہے جس طرح یہ علاقہ مقدس ہے جس طرح یہ دن مقدس ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی جان اور اس کے مال اور عزت کو مقدس قرار دیا ہے اور کسی کی جان اور مال پر حملہ کرنا ایسا ہی نا جائز ہے جیسے کہ اس مہینہ میں اس علاقہ اور اس دن کی ہتک کرنا یہ حکم آج کے لئے نہیں کل کے لئے نہیں بلکہ اس دن تک کے لئے ہے کہ تم خدا سے جا کر ملو پھر فرمایا یہ باتیں جو آج میں تم سے کہتا ہوں ان کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دو کیونکہ ممکن ہے کہ جو لوگ آج مجھ سے سن رہے ہیں ان کی نسبت وہ لوگ ان پر زیادہ عمل کریں جو مجھ سے نہیں سن رہے۔یہ حدیث آپ نے بیان فرما کر عورتوں سے کہا کہ میں آنحضرت ﷺ کی یہ حدیث تمہیں سنا کر اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوتا ہوں اور تم میں سے ہر عورت جو میر ادرس سن رہی ہے وہ کم از کم ایک ایسی عورت کو جس نے آج درس نہیں سنا اس کے گھر جا کر یہ حدیث سنائے اور اس پر عمل کرنے کی تاکید کرے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے عورتوں میں بڑا جوش پیدا ہوا اور قادیان میں گھر گھر عورتیں پھر کر جو عورتیں درس میں نہیں آئی تھیں ان کو یہ حدیث سناتی پھرتی تھیں اور ہر عورت کوشش کرتی تھی کہ اس ثواب سے محروم نہ رہ جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت اماں جان سے بیحد محبت تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذکر پر بھی اکثر آنکھیں بھیگ جاتی تھیں۔آپ کی یاد میں آپ کے مندرجہ ذیل اشعار آپ کے دل کی ترجمانی کرتے ہیں۔اے مسیحا تیرے سودائی جو ہیں ہوش میں بتلا کہ ان کو لائے کون تو تو واں جنت میں خوش اور شاد ہے ان غریبوں کی خبر کو آئے کون اے مسیحا ہم سے گو تو چھٹ گیا دل سے پر الفت تیری چھڑ وائے کون جانتا ہوں صبر کرنا ہے ثواب اس دل ناداں کو سمجھائے کون آپ خود حسن و احسان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نظیر تھے اور اپنی ساری زندگی آپ نے اس