خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 71
71 سفروں میں اکثر اپنے ساتھ رکھتے۔جس موٹر میں خود بیٹھتے اس میں حضرت اماں جان کو اپنے ساتھ بٹھاتے۔کہیں باہر سے آنا تو سب سے پہلے حضرت اماں جان سے ملتے اور آپ کی خدمت میں تحفہ پیش کرتے۔اپنے بہن بھائیوں سے بھی بہت پیار تھا۔ہجرت کے وقت حضور پاکستان تشریف لا چکے تھے اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ابھی قادیان میں ہی تھے حالات خراب ہورہے تھے آپ کو ان کے متعلق بہت تشویش تھی ٹہل ٹہل کر دعائیں کرتے رہتے تھے جس دن حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لاہور پہنچے اور گھر میں داخل ہوئے آپ پہلے تو فوراً سجدے میں گر پڑے اور پھر حضرت میاں صاحب کا ہاتھ پکڑا اور سیدھے حضرت اماں جان کے کمرہ میں تشریف لے گئے اور فرمانے لگے لیں اماں جان ! آپ کا بیٹا آ گیا۔گویا بڑے بھائی ہونے کے لحاظ سے جوان پر فرض تھا اس سے سبکدوش ہو گئے۔بھائیوں اور بہنوں سے محبت :۔حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی وفات 26 دسمبر 1961ء کو ہوئی تھی ٹھیک ایک سال قبل 26 دسمبر 1960 ء کو آپ گھبرا کر اٹھے اور مجھے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میاں شریف احمد صاحب فوت ہو گئے ہیں۔میں نے کہا کہ وہ خدا کے فضل سے بالکل ٹھیک ہیں کہنے لگے کہ نہیں ابھی فون کر کے داؤد سے کہو کہ خودان کے پاس جا کر ان کو دیکھ کر آئے۔داؤد نے جب بتایا کہ خیریت سے ہیں تو کچھ تسلی ہوئی لیکن اس خواب کے اثر سے قریباً ساری رات جاگتے رہے اور دعا کرتے رہے۔اللہ تعالیٰ کی مشیت دیکھیں کہ اسوقت دعاؤں سے اپنی تقدیر ٹلا دی اور ٹھیک ایک سال کے بعد اسی تاریخ کو حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی وفات ہوئی۔دونوں بہنیں بھی بہت پیاری تھیں لیکن حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ سے بہت زیادہ محبت اور بے تکلفی تھی۔سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ سے بیٹیوں کی طرح مشفقانہ سلوک تھا۔لیکن ان کو بھی ذراسی تکلیف کا علم ہوتا تھا تو بے قرار ہو جاتے تھے۔حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ آتیں تو اکثر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کے پرانے اور اپنے بچپن کے واقعات دہراتے کبھی خود سناتے کبھی ان سے سنتے۔جب کوئی نئی نظم کہتے تو فرماتے تھے مبارکہ کو بلا ؤ ان کو بھی سناؤں۔انتہائی شفیق باپ:- بچوں کے لئے انتہائی شفیق باپ تھے تربیت کی خاطر لڑکوں پر وقتا فوقتا سختی بھی کی لیکن ان کی عزت