خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 68 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 68

68 ٹہل رہے ہیں قرآن مجید ہاتھ میں ہے لوگ ملنے آگئے قرآن مجید رکھ دیا مل کر چلے گئے۔پڑھنا شروع کر دیا۔تین تین چار چار دن میں عموماً میں نے ختم کرتے دیکھا ہے۔ہاں جب کام زیادہ ہوتا تھا کہ صبح سے قرآن مجید ہاتھ میں ہے ٹہل رہے ہیں اور ایک ورق بھی نہیں الٹا دوسرے دن دیکھا تو پھر وہی صفحہ میں نے کہنا کہ آپ کے ہاتھ میں قرآن مجید ہے لیکن آپ پڑھ نہیں رہے ہیں تو فرماتے ایک آیت پر اٹک گیا ہوں جب تک اس کے مطالب حل نہیں ہوتے آگے کس طرح چلوں۔ایک دفعہ یونہی خدا جانے مجھے کیا خیال آیا میں نے پوچھا کہ آپ نے کبھی موٹر بھی چلانی سیکھی؟ کہنے لگے ہاں ایک دفعہ کوشش کی تھی مگر اس خیال سے ارادہ ترک کر دیا کہ ٹکر نہ مار دوں۔ہاتھ پیسے پر تھے اور دماغ قرآن مجید کی آیات کی تفسیر میں الجھا ہوا تھا موٹر کیسے چلاتا۔اکثر ایسا ہوتا ہے کہ قرآن مجید پڑھتے پڑھتے کہنا اچھا بتاؤ اس آیت کا کیا مطلب ہے! میں نے جو سمجھ آنی کہ دینا یا کہ دینا پتہ نہیں آپ بتائیں تو پھر کہنا کہ یہ نیا نکتہ سوجھا ہے اور اس آیت کے یہ نئے مطالب ذہن میں آئے ہیں۔جب حضور نے تفسیر کبیر کی سورۃ یونس سے سورۃ الکہف تک والی تفسیر لکھی اور وہ پہلی جلد شائع ہوئی تو کہنے لگے کہ اسے پڑھو میں تمہارا امتحان لوں گا میں نے کہا اچھا لیکن یہ اتنی موٹی کتاب ہے اگلے سال امتحان لے لیں اتنا وقت تو یاد کرنے کے لئے چاہئے کہنے لگے نہیں صرف ایک ماہ۔اگر زیادہ مہلت دی تو تم کبھی بھی نہیں پڑھوگی یہ خیال ہوگا کہ چلو بڑا وقت پڑا ہے پڑھ لوں گی۔پڑھنے کا یہ مطلب نہیں کہ زبانی یاد کرو۔بلکہ شروع سے آخر تک پڑھ جاؤ۔خود ہی ذہن نشین ہو جائے گا۔جب میں نے بہت اصرار کیا تو کہنے لگے کہ اچھا ڈھائی مہینے۔خیر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا ڈھائی ماہ میں میں نے اسے ختم کر لیا اور آپ نے دو تین سوال زبانی پوچھ کر میرا امتحان لیا اور اللہ تعالیٰ نے عزت بھی رکھ لی کہ جواب آگئے۔عورتوں میں جب ہفتہ وار درس دیا کرتے تھے اس میں ایک یا دو دفعہ مجھے یاد ہے عورتوں کا امتحان بھی لیا کثرت سے عورتوں نے امتحان دیا تھا اور پرچے دیکھ کر آپ نے خوشی کا اظہار فرمایا تھا۔ایک دفعہ سورۃ مزمل کا اور ایک دفعہ سورۃ سبا کا۔سورۃ سبا کی اس آیت وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهُ إِلَّا لِمَنْ أَذِنَ لَهُ (سبا:24) پر کئی دن درس جاری رہا تھا شفاعت کا مسئلہ بہت تشریح سے بیان فرمایا تھا اور بعد میں اس حصہ میں سے امتحان لیا تھا جس میں صاحبزادی امتہ القیوم اول آئی تھیں۔