خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 774
774 لاہور میں لجنہ اماءاللہ کے سالانہ تربیتی اجتماع سے خطاب مورخہ 3-14 اکتوبر کو لجنہ اماءاللہ لا ہور کا سالانہ تربیتی اجتماع دارالذکر میں کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا جس میں لا ہور کے تمام حلقہ جات کے علاوہ ضلع لاہور کی لجنہ کی چند ممبرات نے بھی شرکت کی حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے بھی از راہ نوازش ربوہ سے لاہور تشریف لا کر اس اجتماع میں شمولیت فرمائی۔اجتماع کا پہلا دن 3 اکتوبر ناصرات احمدیہ کے پروگرام کے لئے مخصوص تھا۔آپ نے ناصرات سے خطاب میں فرمایا کہ لاہور کی تین احمدی بچیوں نے ایک سال میں پورے قرآن پاک کا ترجمہ سیکھ لیا ہے۔درحقیقت ہمارا سب سے ضروری اور اہم پروگرام قرآن کریم سیکھنے کی طرف خاص توجہ کرنی چاہئے انہیں چاہیے کہ وہ اپنے والدین استادوں اور عہدیداروں کی پوری پوری فرمانبرداری کریں اور اپنے لباس میں اور اپنے رہن میں بھی اسلامی شعار کو اختیار کریں تا کہ جب وہ بڑی ہو کر لجنہ میں شامل ہوں تو وہ احمدیت اور اسلام کا نمونہ ہوں اور لجنہ کی ذمہ داریوں کو پوری طرح سنبھال سکیں۔خطاب ممبرات لجنہ اماءاللہ لاہور حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ نے لجنہ سے ایک مؤثر خطاب فرمایا جس میں آپ نے سپاسنامے کا جواب دینے کے بعد قرآن کریم سیکھنے اور اسلامی تمدن اختیار کرنے کی اہمیت واضح کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ ہمیں حضرت رسول کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کے پاک نمونہ کو ہر وقت اپنے سامنے رکھنا چاہئے قرآن کریم سیکھنا ہمارے پروگرام کا اہم ترین حصہ ہے اس کی طرف خاص توجہ کی ضرورت ہے تا کہ ہم میں کوئی ایسی عورت نہ رہے جو قرآن کریم نہ جانتی ہو اور بڑی حد تک اس کے ترجمہ اور اس کے مفہوم سے واقف نہ ہو۔اس سلسلہ میں آپ نے ناصرات کی طرف بھی خاص توجہ کرنے کی نصیحت فرمائی کیونکہ اگر بنیاد ہی مضبوط نہ ہو تو اس پر عمارت کس طرح استوار ہوسکتی ہے۔آپ نے فرمایا بچوں کی تربیت کی بھاری ذمہ داری والدین پر بھی عائد ہوتی ہے اگر وہ کوشش کریں تو بچے آسانی سے دین کے بنیادی مسائل سے واقف ہو سکتے ہیں اور ناصرات بڑی ہو کر لجنہ کی ذمہ داریوں کو