خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 771 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 771

6 771 لائل پور میں احمدی مستورات سے اہم خطاب اور قیمتی نصائح حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ صدر لجنہ اماء الله مرکز یہ مع صاحبزادی امتہ المتین سلمها اللہ تعالیٰ مورخہ 12 اپریل 1970ء کو صدر کے انتخاب کی غرض سے لائل پور تشریف لے گئیں یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ اس موقع پر حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ اور صاحبزادی فوزیہ بیگم صاحبہ نے بھی سیدہ محترمہ صدر صاحبہ کے ہمراہ لجنہ لائل پور کے اس جلسہ کو رونق بخشی۔حضرت سیدہ صاحبہ صدر لجنہ مرکزیہ نے بہنوں کو مختصر مگر جامع و پر مغز نصائح فرما ئیں آپ نے احمدیت کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ہماری اصل غرض یہ ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے سچے عبد بنیں اور پھر کامل نظام اور کامل ضابطہ حیات جو حضرت رسول کریم ﷺ نے قرآن کریم کی شکل میں دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اسے ساری دنیا میں رائج کرنے کے لئے ہر طرح کی قربانیاں، مال، وقت، جان اور اولاد کی دیں۔ہم صرف اور صرف قرآن مجید کی تعلیم پر عمل کرنے سے ہی دنیا میں ترقی کر سکتے ہیں جیسا کہ قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے۔قربانیوں کے سلسلے میں آپ نے فرمایا کہ جس وقت مطالبہ کیا جائے اس وقت دینا ہمارا فرض ہے اور خلیفہ وقت کی اطاعت کرنا ہمارا اولین فرض ہے۔سچا مومن وہی ہے جو ہر مطالبہ پر سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا کہے۔لجنہ کی عہدیداران کو نصائح کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ جو شخص بھی کسی عہدہ پر قائم ہوتا ہے اسے دوسروں کے اعتراضات بھی سننے پڑتے ہیں لیکن آپ کو حضرت رسول کریم ﷺ کے فرمان سيِّدُ الْقَوْمِ خَادِمُهُمُ کو سامنے رکھتے ہوئے لجنہ کی خدمت کی خاطر اپنے نفس کی قربانی دیتے ہوئے انہیں برداشت کرنا پڑے گا۔اللہ تعالیٰ جسے کوئی عزت دیتا ہے تو اسی کی نسبت سے بھاری ذمہ داری بھی اس پر عائد ہو جاتی ہے لہذا آپ کو جس حلقہ کی صدارت کا عہدہ دیا جاتا ہے تو حقیقت میں آپ ان کی خادم ہیں۔ممبرات کو نصیحت کرتے ہوئے آپ نے واضح الفاظ میں فرمایا کہ جب تک آپ ان عہدیداران سے تعاون نہ کریں ہر کام میں ان کی مدد نہ کریں ہم کامیاب نہیں ہو سکتے کیونکہ ہمارا کام کسی ایک بہن کے کرنے کا نہیں۔