خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 769
769 لجنہ اماءاللہ جامعہ نصرت ربوہ سے خطاب لجنہ جامعہ نصرت ربوہ کے زیر انتظام تعلیم القرآن کے تحت ایک ضروری جلسہ زیر صدارت حضرت سیدہ ام متین مریم صدیقہ صاحبہ صدر لجنہ مرکز یہ منعقد کیا گیا۔آپ نے ممبرات لجنہ جامعہ نصرت کو بیش قیمت نصائح فرما ئیں آپ نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ اس اجلاس کی غرض یہ ہے کہ ہماری بچیوں کے دلوں میں قرآن مجید کی عزت اور اس پر عمل کا شوق پیدا ہو۔اعمال صالحہ کی طرف توجہ دلانا اور نفوس کو پاک کرنا ہر نبی کی غرض تھی۔لیکن مشکل یہ ہے کہ بہت سے ذہنوں میں یہ چیز نشو ونما پا چکی ہے کہ قرآن مجید کا سمجھنا بہت مشکل ہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ تو یہ فرماتا ہے کہ ہم نے اسے تمہارے لئے آسان بنایا ہے عمل کے لحاظ سے بھی اور غور وفکر کرنے اور یاد کرنے کے لحاظ سے بھی۔اس کا کوئی حکم انسانی فطرت کے خلاف نہیں۔اپنے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ قرآن مجید کا علم اور اس کی سمجھ انہیں لوگوں کو دی جاتی ہے جو پاک دل ہوں یعنی قرآن مجید کے پر دے وہی اٹھا سکتا ہے جو متقی ہو جیسا کہ اللہ فرماتا ہے لا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعه : 80) آنحضرت ﷺ نے فرمایا: - خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ(بخاری کتاب فضائل القرآن) پھر فرمایا قرآن پڑھنے اور پڑھانے والے عزت پائیں گے۔پس ہمارا کام صرف رشا نہ ہو بلکہ یہ نیت ہو کہ علوم سمجھنا ہیں جن باتوں سے روکا گیا ہے ان سے باز رہنا ہے تب ہماری زندگیاں قرآن کے مطابق ڈھل سکتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت مصلح موعود نیز حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے قرآن کی تعلیم پر بہت ہی زور دیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔” تمہارے لئے ایک ضروری تعلیم یہ ہے کہ قرآن شریف کو مہجور کی طرح نہ چھوڑ دو کہ تمہاری اس میں زندگی ہے۔جو لوگ قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گے۔“ کشتی نوح صفحه 13 آخر میں آپ نے فرمایا کہ جس طرح لحد اماءاللہ کی مستحق کو کپڑے بنا کر دینا اپنا فرض بجھتی ہے کسی کی نقدی سے مدد کرتی ہے اسی طرح میں لجنہ جامعہ نصرت کی عہدیداران کو اس امر کی طرف توجہ دلاتی ہوں کہ