خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 55
55 حضرت خلیفہ مسیح الثانی کی مقدس سیرت کی چند جھلکیاں کچن لیا تو نے مجھے ابن مسیحا کیلئے پہلے یہ کرم ہے میرے جاناں تیرا ہزاروں درود اور سلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جن کے طفیل ہمیں اسلام جیسی نعمت حاصل ہوئی اور پھر ہزاروں سلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر جو اسلام کو دوبارہ لائے اور ہم نے زندہ خدا کا وجود ان کے ذریعہ سے دیکھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کی وجہ سے ایمان لانا نصیب ہوا۔اور میرے رب کا کتنا بھاری احسان مجھ نا چیز پر ہے کہ اس نے مصلح موعود کے زمانہ میں مجھے پیدا کیا۔نہ صرف ان کا زمانہ عطا فر مایا بلکہ اس کی قدرت کے قربان جاؤں اس نے مجھ نا چیز ہستی پر کتنا بھاری انعام اور احسان فرمایا کہ مجھے اس پاک ونورانی وجود اس قدرت و رحمت اور قربت کے نشان اور مثیل مسیح کے لئے بچن لیا آپ کی صحبت سے فیض حاصل کرنے ، آپ کی تربیت میں زندگی گزارنے اور پھر اس پاک وجود کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔خدا تعالیٰ کی کیا شان ہے۔دینے پر آئے تو جھولیاں بھر بھر کر دیتا ہے۔میں کیا اور میری ہستی کیا۔اللہ تعالیٰ کا یہ اتنا بڑا انعام ہے کہ اس کے احسان اور انعام کا تصور کر کے بھی عقل حیران رہ جاتی ہے۔سر آستانہ الوہیت پر جھک جاتا ہے اور منہ سے بے اختیار نکل جاتا ہے۔میں تو نالائق بھی ہو کر پا گیا در گہ میں بار میری اور حضرت خلیفہ اسی الثانی کی رفاقت کا زمانہ ہمیں سال ہے۔آپ کی سیرت پر روشنی ڈالنے آج زمانہ میں سال ہے۔کی سے قبل اپنی شادی اور اس کا پس منظر بیان کرنا ضروری سمجھتی ہوں۔میری شادی اور اس کا پس منظر :۔میرے والد صاحب حضرت میر محمد اسمعیل صاحب کی پہلی بیوی سے ایک لمبا عرصہ تک کوئی اولا د نہیں ہوئی۔حضرت اماں جان کی خواہش تھی کہ میرے بھائی کے ہاں اولا د ہو۔بھائی سے محبت بھی بہت زیادہ تھی۔حضرت اماں جان نے میری شادی کے بعد بھی کئی دفعہ مجھ سے یہ ذکر فرمایا کہ جب میاں محمود ( حضرت خلیفہ اسیح الثانی) چھوٹے تھے تو میرے دل سے بار بار یہ دعا نکلتی تھی کہ الہی میرے بھائی کے ہاں بیٹی ہو تو میں اس کی شادی میاں محمود سے کروں۔لیکن جو بات بظاہر ناممکن نظر آتی تھی۔یعنی حضرت