خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 56 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 56

56 اماں جان کی دعا اور خواہش وہ میری شادی کے ذریعہ پوری ہوئی۔سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ میں ذکر کر چکی ہوں کہ میرے ابا جان کے ہاں جب بڑی والدہ صاحبہ سے جو بفضلہ تعالیٰ زندہ موجود ہیں کوئی اولا د نہیں ہوئی تو حضرت اماں جان اور حضرت خلیفۃ اسیح الثانی کے زور دینے پر میرے ابا جان نے مرزا محمد شفیع صاحب کی بڑی لڑکی امتہ اللطیف صاحبہ سے 1917ء میں شادی کی۔یہ رشتہ بھی حضور کا ہی طے کردہ تھا۔7 اکتوبر 1918ء کو میری پیدائش ہوئی۔چونکہ اور کوئی پہلے اولاد نہ تھی۔اس لئے میرے ابا جان نے مجھے ہی خدا تعالیٰ کے حضور وقف کر دیا۔اس کا اظہار حضرت ابا جان نے اپنے کئی مضامین میں بھی کیا۔اور جب میری شادی ہوئی تو آپ نے مجھے نصائح نوٹ بک میں لکھ کر دیں۔اس میں آپ نے تحریر فرمایا۔"مریم صدیقہ ! جب تم پیدا ہوئیں تو میں نے تمہارا نام مریم اس نیت سے رکھا تھا کہ تم کوخدا تعالیٰ اور اس کے سلسلہ کے لئے وقف کر دوں۔اسی وجہ سے تمہارا دوسرا نام نذیرالہی بھی تھا۔اب اس نکاح سے مجھے یقین ہو گیا کہ میرے بندہ نواز خدا نے میری درخواست اور نذر کو واقعی قبول کر لیا تھا اور تم کو ایسے خاوند کی زوجیت کا شرف بخشا جس کی زندگی اور اس کا ہر شعبہ اور ہر لحظہ خدا تعالیٰ کی خدمت اور عبادت کے لئے وقف ہے۔پس اس بات پر بھی شکر کرو کہ تم کو خدا تعالیٰ نے قبول فرمالیا اور میری نذر کو پورا کر دیا“۔فالحمد لله اسی سلسلہ میں اپنے ابا جان کے ایک مضمون کا اقتباس بھی پیش کرتی ہوں۔آپ کا یہ مضمون ”صنم خانہ عشق میں ایک رات“ کے عنوان سے 3 نومبر 1936 ء کے الفضل میں شائع ہوا ہے۔آپ لکھتے ہیں۔آدھی رات تو ہو ہی چکی تھی میں چوکھٹ پر سر رکھے پڑا تھا اور اٹھنے کا خواہشمند تھا کہ اٹھنے کی اجازت ملی۔وہیں دروازہ کے ساتھ ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو گیا۔اور اپنی زبان میں اظہار تعشق یا یوں کہو مناجات شروع کی۔ایسی مؤثر ایسی رقت بھری کہ سنگدل سے سنگدل معشوق بھی اس کو سن کر آبدیدہ ہو جائے۔آخر میرا جادو چل گیا اور یوں محسوس ہوا کہ کوئی پوچھتا ہے کہ کیا چاہتا ہے۔میں نے عرض کیا۔اے خداوند من گنا ہم بخش سوئے درگاه خویش را هم بخش دردو عالم مرا عزیز توئی و آنچه می خواهم از تو نیز توئی