خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 654 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 654

654 پس عزیز بچیو! اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو کہ اس نے احمدیت جو حقیقی اسلام ہے کی نعمت سے تمہیں نوازا۔اور اس زمانہ کے امام کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی۔اپنے مولیٰ کے اس احسان کا عملی شکر اس طرح ادا کر سکتی ہو کہ اپنی ہر سہیلی، ہر ملنے والی ہر ہم جماعت کو یہ بتا دو کہ وہ مسیح موعود علیہ السلام جس کا چودہ صدیوں سے انتظار ہو رہا تھا اور جس کے آنے کی خبر ہر صدی کے عالم دیتے چلے آئے تھے۔وہ آچکا ہے۔آنحضرت ﷺ کی بعثت پر چودہ سو سال پورے ہورہے ہیں۔آنے والا آ چکا ہے۔اب کسی کا انتظار فضول ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مانے میں ہی فلاح اور نجات ہے۔تمہاری ایسوسی ایشن کی ہر مبر کا فرض ہے کہ وہ تبلیغ کا فریضہ سر انجام دے۔عورتوں میں عورتوں کے ذریعہ اور لڑکیوں میں لڑکیوں کے ذریعہ تبلیغ پہنچ سکتی ہے۔حضرت مصلح موعود نے جب بلجنہ کا قیام فرمایا تھا تو آپ نے اپنے قلم سے لجنہ اماءاللہ کے متعلق جو ابتدائی تحریر فرمائی تھی۔اس میں لکھا تھا:۔دشمنان اسلام میں عورتوں کی کوششوں سے جو روح بچوں میں پیدا کی جاتی ہے اور جو بد گمانی اسلام کی نسبت پھیلائی جاتی ہے۔اس کا اگر کوئی تو ڑ ہو سکتا ہے تو وہ عورتوں ہی کے ذریعہ سے ہوسکتا ہے۔“ الازهار لذوات الخمار صفحه 52 پس ضرورت ہے اس امر کی کہ ہماری احمدی بچیاں جو دنیوی تعلیم کا لجوں میں حاصل کر رہی ہیں ان میں اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا احساس پیدا ہو۔ضرورت ہے اس امر کی کہ وہ دینی تعلیم کی طرف بھی توجہ دیں۔قرآن کریم کا ترجمہ سیکھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پڑھیں۔اور ہر مسئلہ کے پورے پورے دلائل انہیں آتے ہوں۔پھر ضرورت ہے اس امر کی کہ وہ دلائل کے ہتھیاروں سے پوری طرح آراستہ ہو کر میدان میں کود پڑیں۔ان غلط فہمیوں کو دور کریں۔جو جماعت احمدیہ کے متعلق پھیلائی جاتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علی اسلام کے دعوئی کو پیش کریں۔اسلام کے اس خوشنما چہرے کو دنیا کے سامنے پیش کریں۔جس پر سے تمام میل کچیل اتار کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیش فرمایا تھا اور یہ وہی اسلام کا چہرہ ہے جو چودہ سو سال قبل آنحضرت ﷺ نے پیش فرمایا تھا۔اور ضرورت ہے اس امر کی کہ ہماری احمدی بچیاں تقریر اور تحریر کے ذریعہ سے قرآن مجید کی تعلیم کی اشاعت کریں اور حقیقی اسلام ان کے ذریعہ سے دنیا کو پہنچے۔تقریر میں تو پھر بھی ایک خاص تعداد میں بچیوں نے مشق کی ہے اور وہ اچھی تقریر کر لیتی ہیں۔لیکن تحریر کے میدان میں گنتی کی لڑکیاں ایسی ہیں جو اچھا لکھ سکتی