خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 655
655 ہیں۔زمانہ تعلیم میں اگر کچھ بچیاں اچھا لکھ بھی لیتی ہیں تو اپنی تعلیم ختم کرنے کے بعد وہ بالکل ہی چھوڑ دیتی ہیں۔تقریر ایک وقتی اثر چھوڑتی ہے۔لیکن تحریر قائم رہنے والی چیز ہے۔جس کا اثر بھی دیر پا ہوتا ہے۔پس میں احمدی بچیوں کو اس طرف توجہ دلاتی ہوں کہ وہ اس عملی میدان میں بھی اتریں اور اپنے مضامین کے ذریعہ سلسلہ کی خدمت کریں۔احمدی عورتوں کا ایک ہی رسالہ نکلتا ہے۔مصباح اس کی قلمی اعانت کی طرف احمدی بچیوں میں بہت ہی کم توجہ پائی جاتی ہے۔پس اس ایسوسی ایشن کے فرائض میں سے ایک فرض میں یہ بھی قرار دیتی ہوں کہ وہ تحریر کی طرف توجہ دیں اور ایسوسی ایشن کی عہدہ داران بچیوں سے مختلف موضوعات پر مضامین لکھوا کر مصباح کے لئے بھجوایا کریں۔اللہ تعالیٰ اس ایسوسی ایشن کا قیام بہت ہی بابرکت فرمائے اور اس کی ممبر ز کو احمدیت کی سچی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔اور ہماری بچیوں کا اس نظام نو کی تعمیر میں وسیع حصہ ہو۔جس نظام نو کا قیام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ہوا ہے۔خدمت دین تو اک فضل الہی ہے۔جو ہمارے کسی عمل کے نتیجہ میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت رحمانیت کے تحت محض اپنے فضل سے ہمیں نواز نے کے لئے ہم پر انعام کیا۔اللہ تعالیٰ ہمیں تو فیق عطا فرمائے کہ ہم اس کی کچی عبد بنیں۔آمین اللھم آمین خاکسار مریم صدیقہ 19-6-66 ( صدر لجنہ اماءاللہ مرکز یہ ربوہ ) مصباح اگست 1966 ء