خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 650
650 آپ کا عمل تھا اس کی آپ تعلیم دیتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی فرماتے ہیں۔پس سمجھ لو اور خوب سمجھ لو کہ نر اعلم و فن اور خشک تعلیم بھی کچھ کام نہیں دے سکتی۔جب تک کہ عمل اور مجاہدہ اور ریاضت نہ ہو۔دیکھو سر کار بھی فوجوں کو اسی خیال سے بریکار نہیں رہنے دیتی۔عین امن و آرام کے دنوں میں بھی مصنوعی جنگ برپا کر کے فوجوں کو بیکار نہیں بیٹھنے دیتی۔اور معمولی طور پر چاند ماری اور پریڈ وغیرہ تو ہر روز ہوتی ہی رہتی ہے۔جیسا ابھی میں نے بیان کیا کہ میدان کارزار میں کامیاب ہونے کے لئے جہاں ایک طرف طریق استعمال اسلحہ وغیرہ کی تعلیم اور واقفیت کی ضرورت ہے وہاں دوسری طرف ورزش اور محل استعمال کی بھی بڑی بھاری ضرورت ہے۔اور نیز حرب وضرب کے لئے تعلیم یافتہ گھوڑے چاہیں یعنی ایسے گھوڑے جو تو پوں اور بندوقوں کی آواز سے نہ ڈریں اور گردو غبار سے پراگندہ ہو کر پیچھے نہ ہٹیں۔بلکہ آگے ہی بڑھیں۔اسی طرح نفوس انسانی کامل ورزش اور پوری ریاضت اور حقیقی تعلیم کے بغیر اعداء اللہ کے مقابل میدان کارزار میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔“ ملفوظات جلد 1 صفحہ 36 پس میری عزیز بهنو اسلام اور کفر کی اس آخری جنگ میں ہمیں ہر احمدی عورت کی ضرورت ہے تا وہ خود دینی تعلیم سے اچھی طرح واقف ہو۔اس کے مطابق عمل کر کے دنیا کے لئے نمونہ بنے۔اپنے بچوں کو دینی تعلیم دینے اور ان کے اندر خدمت دین کا جذبہ پیدا کرنے کے قابل ہو سکے۔اس وقت سلسلہ کو جو آپ کے وجودوں سے مدد پہنچے گی جو کام آپ احمدیت کے ستون تیار کرنے کے لئے کریں گی۔ان پر آنے والی نسلیں فخر کریں گی۔کیونکہ جب احمدیت ساری دنیا پر غالب آجائے گی اور سب دنیا کا مذہب اسلام ہی ہوگا۔اس وقت ان قربانیوں کی ضرورت ہی باقی نہ رہے گی۔پس میری دعا ہے کہ آپ کو جو یہ تعلیم حاصل کرنے کا سنہری موقعہ بہم پہنچایا گیا ہے۔اس سے پورا پورا فائدہ اٹھائیں ہمت نہ ہاریں۔علم حاصل کرتی چلی جائیں اور اپنے عمل سے دوسروں کی بھی پیاس بجھائیں اور اپنا نمونہ قرآن مجید کی تعلیم کے مطابق بنانے کی کوشش کریں۔اگر علم حاصل کر کے بھی ہمارا نمونہ اس کے مطابق نہیں تو وہ غیروں پر اثر پیدا نہیں کر سکتا۔اللہ تعالیٰ آپ کو علم سیکھنے اور سکھانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین تاریخ تجنه جلد سوم صفحہ 313