خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 649
649 پیغام برائے تربیتی کلاس 19 مارچ 1965ء کو ربوہ میں ایک تربیتی کلاس کا افتتاح ہوا۔یہ کلاس بڑی عمر کی عورتوں کو دینی علوم سے روشناس کرانے کے لئے لگائی گئی تھی۔محترمہ سیدہ نصیرہ بیگم صاحبہ نائب صدر لجنہ اماء الله مرکز بیہ نے کلاس کا افتتاح فرمایا اور حضرت سیدہ صدر صاحبہ لجنہ مرکزیہ کا کلاس کے نام ذیل کا پیغام پڑھ کر سنایا۔آج جس تعلیمی، تربیتی کلاس کا افتتاح لجنہ اماء اللہ کے شعبہ تعلیم کے تحت کیا جا رہا ہے اس کی غرض یہ ہے کہ مرکز میں رہنے والی شادی شدہ خواتین جو سکولوں اور کالجوں میں علم حاصل نہیں کر سکتیں۔وہ اس میں داخلہ لے کر علم حاصل کر سکیں۔آنحضرت ﷺ کے فرمان مقدس کے مطابق کہ طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ وَمُسْلِمَةٍ (ابن ماجه باب فصل العلماء) ہر مسلمان مرد اور ہر مسلمان عورت کے لئے علم کا حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔اگر آج مسلمان اس حدیث پر عمل پیرا ہوتے تو دنیا میں ایک مسلمان بھی جاہل نہ ہوتا۔یہ مد نظر رہے کہ علم سے مراد دینی علم ہے۔دنیاوی علم نہیں۔بے شک دنیاوی علم حاصل کرنا بھی ضروری ہے مگر وہ ثانوی چیز ہے تمام دنیا وی علوم قرآنی علم کی شاخیں ہیں۔تمام علوم کا سر چشمہ قرآن مجید ہے۔اس لئے پوری توجہ قرآن مجید کا ترجمہ سیکھنے اور مطلب سمجھنے کی طرف لگانی چاہئے۔پھر آنحضرت ﷺ کی احادیث ہیں۔حدیث سے ہمیں قرآن مجید کا مطلب سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے اور ہر حکم کے متعلق آنحضرت ﷺ کا فرمان اور نمونہ حدیثوں سے ہی ملتا ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا پڑھنا ہمارے لئے بڑا ہی ضروری ہے۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تمام کتب قرآن مجید ہی کی تفسیر ہیں۔پس میں امید کرتی ہوں کہ میری عزیز بہنیں اور بچیاں جو اس درجہ میں داخلہ لیں گی وہ ہمت، استقلال اور استقامت کے ساتھ پڑھیں گی اور صرف پڑھیں گی ہی نہیں۔بلکہ اس تعلیم کے مطابق اپنے اخلاق کو ڈھالیں گی اپنے نفوس کا تزکیہ کریں گی اور اپنے اعمال کو قرآن مجید کے معیار پر پرکھنے کی کوشش کریں گی۔کسی نے حضرت عائشہ سے سوال کیا کہ ہمیں آنحضرت ﷺ کے اخلاق کے متعلق بتائے تو آپ نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ کے اخلاق کے متعلق کیا پوچھتے ہو گانَ خُلُقُهُ الْقُرآن ( مسنداحمد بن حنبل جلد 6 صفحہ 91) آپ کے اخلاق اور آپ کا عمل وہی تھا جس کی قرآن تعلیم دیتا ہے گویا آپ کی تعلیم اور آپ کے عمل میں کوئی تضاد نہ تھا۔جن باتوں کی تعلیم قرآن مجید میں ہے۔اس پر آپ عامل تھے۔اور جن پر