خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 588
588 حضرت مصلح موعود نے عورتوں کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ایک دفعہ یہی نکتہ بیان کرتے ہوئے فرمایا تھا۔”ہماری ترقیاں ، ہماری قربانیاں زیادہ سے زیادہ ہیں یا پچیس سال تک رہیں گی۔مگر اگر تم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو تو قیامت تک اس ترقی کو قائم رکھ سکتی ہو کیونکہ آئندہ نسلوں کو سکھانے والی تم ہی ہو۔ہمارا اثر ظاہری ہے تمہارا اثر دائمی ہے۔اس سے تم سمجھ لو کہ تمہارے اوپر زیادہ بوجھ ہے۔یہ تمہیں ہو کہ اسلام کو قائم رکھ سکتی ہو۔شیطان کا سرکاٹ سکتی ہو اور دین کی ترقی کو ایسی صورت میں مستحکم کر سکتی ہو کہ تمام قو میں دیکھ کر حیران رہ جائیں۔“ (الفضل 22 جنوری 1923ء الازھار لذوات الخمار ص62) پس میری بہنو! آئندہ سال بلکہ مستقل طور پر آپ کی زیادہ توجہ اور زیادہ نگرانی کی محتاج ہماری جماعت کی بچیاں ہیں۔دنیا اس وقت جس بے راہ روی کا اور لامذہبیت کا شکار ہورہی ہے اس سے اپنی اگلی نسل کو مکمل طور پر محفوظ رکھنا ہمارا کام ہے۔اس کے لئے ہم قیامت کو اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہ ہوں گی۔بچیوں کی صحیح رنگ کی تربیت صرف حکم دینے یا زبانی نصیحت سے نہیں کی جاسکتی اس کے لئے ضرورت ہے کہ سب سے پہلے تو ان کی دینی تعلیم کا انتظام ہو۔صرف یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ وہ سکولوں کالجوں میں پڑھ رہی ہیں کافی ہے۔ہر ماں باپ اپنی اولاد کی تربیت کا پہلا ذمہ دار ہے۔ماں باپ کے بعد اس شہر کی لجنہ کی عہدیداران ذمہ دار ہیں۔اگر ماں باپ بچوں کی تربیت سے غافل ہیں تو یہ فریضہ ان کو ادا کرنا ہوگا کہ ان کی دینی تعلیم ہورہی ہے یا نہیں۔انہوں نے قرآن مجید ناظرہ پڑھا ہے، ترجمہ شروع کر دیا ہے، نماز آتی ہے، نماز وقت پر پڑھتی ہیں، اپنی عمر کے مطابق اپنی جماعت کے بنیادی مسائل کو پیش کر سکتی ہیں یا نہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ کے ہر حکم پر لبیک کہنے کا جذبہ پیدا ہو گیا ہے یا نہیں۔اس کے لئے ضروری ہے کہ ان کو آپ کی ہر تحریک ، آپ کے ہر ارشاد سے واقف کروایا جائے۔ان کو اجلاسوں میں شامل ہونے کے لئے ان کی مائیں بھجوائیں۔ان کو احکام قرآنی سے واقف کروایا جائے۔ان کو بچپن سے علم ہو کہ زندگی کی ہر راہ کے متعلق قرآن مجید کا یہ حکم ہے۔یہ کام ہیں جو آپ نے مستقل طور پر کرتے ہیں اور جب کسی بچی میں کمزوری دیکھیں پیار سے نرمی سے، قرآن حدیث کے حوالہ سے، حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ کے ارشاد سے اسے واقف کریں۔ذرا بھی دل میں نیکی ہوئی تو وہ بچی خود بخود اس کمزوری سے محفوظ ہو جائے گی۔بچوں کی تربیت کے لئے یہ بھی بہت ضروری ہے کہ آپ کا اپنا نمونہ اچھا ہو۔آپ کا عمل خود قرآن کے