خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 587 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 587

587 اس کی صرف اور صرف یہی وجہ ہے کہ ان کی ماؤں نے ان کی صحیح تربیت نہیں کی۔ان کے دلوں میں احمدیت اتنی پختہ طور پر راسخ نہیں ہوئی جس کی وجہ سے ان باتوں سے محفوظ رہیں جوان میں پائی جاتی ہیں۔چندہ وقف جدید اور ناصرات پھر بچوں کے دلوں میں بچپن سے سلسلہ کی خاطر قربانی کا جذبہ پیدا کرنے کی خاطر حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ نے چندہ وقف جدید کی تحریک فرمائی اور اس کے لئے پچاس ہزار روپے کا بجٹ منظور فرمایا۔پچاس ہزار روپے سالانہ کی رقم اتنی زیادہ نہیں تھی کہ سارے پاکستان کے طول وعرض میں پھیلے ہوئے احمدی بچوں کے لئے اسے پورا کرنا مشکل ہوتا۔بہت آسان تھا۔اگر ہر ماں باپ بچوں کو بتاتے کہ یہ چندہ تمہارے ذمہ ہے اور تم نے ہر صورت میں اپنے کھانے پینے اور کھلونوں پر خرچ کرنے کی بجائے بچا کر دینا ہے لیکن اس سلسلہ میں بھی پوری توجہ عہدیداران ناصرات نے نہیں کی۔اس سال ناصرات کا دس ماہ کا کل چندہ وقف جدید 5606۔90 ہے جس میں سے 3619۔34 صرف ناصرات ربوہ کا ہے اور 1987۔56 بیرون از ربوہ کا۔کوشش کریں کہ دسمبر تک زیادہ سے زیادہ ادا کیا جاسکے۔یہ چندہ صرف 47 مقامات کی ناصرات سے آیا ہے جبکہ گزشتہ سال 70 مقامات سے ناصرات کا وقف جدید کا چندہ وصول ہوا تھا۔یہ تساہل بتاتا ہے کہ ماں باپ اور لجنہ اماءاللہ کی عہدیداران بھی ناصرات کی طرف سے ابھی غافل ہیں حالانکہ یہی وہ شعبہ ہے جس کی ترقی سے آپ کی ترقی وابستہ ہے اور جماعت کی ترقی وابستہ ہے۔آج آپ بچوں کی صحیح تربیت کر کے ان کو ایسا بنا ئیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت رچی ہوئی ہو۔جن کے دل میں صرف ایک ہی خواہش ہو کہ اللہ تعالیٰ اور محمد رسول اللہ کی اطاعت کرنی ہے جن کے دلوں میں احمدیت کی ایسی محبت ہو کہ کوئی شیطانی حربہ ان پر کارگر نہ ہو۔احمدیت کی خاطر ہر تکلیف ہر دکھ وہ برداشت کر سکیں۔وہ اپنے ہر عزیز کو نظام سلسلہ اور احمدیت کی خاطر چھوڑ سکیں۔وہ مغربیت کی پیروی کرنے کی بجائے قرآن کو اپنی زندگیوں کا دستور عمل بنائیں جن کی نگاہ ہر وقت اپنے آقا کے ہونٹوں کی جنبش کی طرف لگی ہوئی ہو اور آپ کی کامل اطاعت اپنے لئے فخر کا موجب سمجھیں جب یہ بچیاں بڑی ہوں گی اپنی قوم ، ملک، احمدیت کے لئے قابل فخر خواتین ہوں گی۔پس بہت ضرورت ہے کہ احمدی بچیوں کو قرآن سکھانے ، دلائل سکھانے اور ان کی رگ رگ میں احمدیت رچانے کی کوشش کی جائے ورنہ اس کے بغیر ہماری ترقی دائمی نہیں رہ سکتی۔