خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 560
560 دعا اور اس کا فلسفہ بر موقعہ جلسہ سالانہ 1969ء وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمُ (المؤمن: 61) (ترجمہ) تمہارا رب کہتا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری دعا سنوں گا۔اللہ تعالیٰ کا امت محمدیہ پر ایک عظیم الشان احسان شاید ہی کوئی احمدی خاتون ہوگی جو لفظ دعا سے نا آشنا ہو یا اس کا ایمان دعا پر نہ ہو۔لیکن کم ایسی ہوں گی جو دعا کے حقیقی فلسفہ سے واقف اور اس کی اہمیت کو بجھتی ہوں۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دعا کی اجازت دے کر ایک اتنا عظیم الشان احسان امت محمدیہ پر کیا ہے کہ جس کی وسعت کو الفاظ میں بیان بھی نہیں کیا جا سکتا۔حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ دام ظلہا نے اس مضمون کو اپنے اشعار میں کسی خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔نہیں پاتی ہے زباں شکر و ثناء کا يارا احسان بندوں کو دیا اذن دعا کا ނ کیا کرتے جو حاصل یہ آپ وسیلہ بھی نہ ہوتا دو باتوں کا حیلہ بھی نہ ہوتا اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کا رب ہے۔اور انسان اس کا عبد ہے دعار بوبیت اور عبودیت کے درمیان ایک اعلیٰ درجہ کا نہ ٹوٹنے والا تعلق اور ایک نہایت ہی پاک رشتہ ہے۔جس کے بغیر کسی انسان کا اپنے رب سے تعلق پیدا ہو ہی نہیں سکتا۔اور یہ راستہ کوئی آسان راستہ نہیں، کانٹوں بھرا راستہ ہے۔اور موت کے دروازہ میں سے داخل ہو کر ملتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔دنیا میں کوئی نبی نہیں آیا جس نے دعا کی تعلیم نہیں دی۔یہ دعا ایک ایسی شے ہے جو عبودیت اور ربوبیت میں ایک رشتہ پیدا کرتی ہے۔اس راہ میں قدم رکھنا بھی مشکل ہے لیکن جو قدم رکھتا ہے پھر دعا ایک ایسا ذریعہ ہے کہ ان کی مشکلات کو آسان اور سہل کر دیتا ہے۔دعا کا ایک ایسا بار یک مضمون ہے کہ اس کا ادا کرنا بھی بہت مشکل ہے۔جب تک انسان خود دعا اور اس کی کیفیتوں کا تجربہ کار نہ ہو وہ اس کو بیان نہیں کر سکتا۔غرض جب انسان خدا تعالیٰ سے متواتر دعائیں