خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 561 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 561

561 مانگتا ہے تو وہ اور ہی انسان ہو جاتا ہے۔اس کی روحانی کدورتیں دور ہو کر اس کو ایک قسم کی راحت اور سرور ملتا ہے اور ہر قسم کے تعصب اور ریا کاری سے الگ ہو کر وہ تمام مشکلات کو جو اس کی راہ میں پیدا ہوں برداشت کر لیتا ہے۔خدا کے لئے ان سختیوں کو جو دوسرے برداشت نہیں کرتے اور نہیں کر سکتے۔صرف اس لئے کہ خدا تعالیٰ راضی ہو جاوے برداشت کرتا ہے۔تب خدا تعالیٰ جو رحمن اور رحیم خدا ہے اور سراسر رحمت ہے اس پر نظر کرتا ہے۔اور اس کی ساری کلفتوں اور کدورتوں کو سرور میں بدل دیتا ہے۔“ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 492) اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت رحمانیت کے ماتحت انسان کو زبان عطا فرمائی۔انسان کے دماغ میں سوچنے اور سمجھنے غور وفکر کرنے کی طاقتیں رکھیں۔انسان کے دل میں خشوع و جذبات بھی رکھے۔اور ادعوني استجب لكم (المومن (61) کہ کر مانگنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔اس کے باوجود جو شخص اللہ تعالیٰ کے آگے نہیں جھکتا۔اور اس کے بار بار کہنے کے باوجود کہ مانگو میں قبول کروں گا اس سے نہیں مانگتا وہ یقینا ظالم انسان ہے۔لیکن دعا رسمی دعا نہ ہو۔بلکہ دعا مانگنے سے اسے خودلذت اور سرور حاصل ہو۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ دعا تو ایک سرور بخش کیفیت ہے۔“ دعا کی حقیقت اور فلسفہ:۔دعا کی حقیقت اور فلسفہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس طرح آسان پیرایہ میں دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔گزشتہ چودہ سو سال میں کوئی بھی پیش نہ کر سکا۔جو حقیقت آپ نے بیان فرمائی ہے۔اس کا مفہوم اور خلاصہ یہ ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے پھر کوئی وجہ نہیں کہ عبادت اور دعا میں اسے لذت اور سرور حاصل نہ ہو مزہ نہ آئے دنیا کی ہر چیز میں اللہ تعالیٰ نے مزہ اور لذت رکھی ہے اور انسان کو اس لذت کے حاصل کرنے کے لئے اعضاء عطا فرمائے ہیں۔آنکھ، ناک، کان ، زبان، دل، دماغ وغیرہ۔اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کا جوڑا اس لئے پیدا کیا تا ان کے ذریعہ سے بقا کا سلسلہ جاری رہے۔اس لئے ایک تعلق مرد اور عورت میں قائم کیا اور ضمناً اس میں ایک حظ بھی رکھ دیا جو اکثر نادانوں کے لئے مقصود بالذات ہو گیا حالانکہ مرد اور عورت کے تعلق کی اصل غرض دنیا میں ایک نیک نسل کا چلانا تھی۔اسی طرح انسان اور اس کے رب کے درمیان بھی ایک تعلق ہے جو دعا کے ذریعہ قائم رہتا ہے دنیا کی تمام لذتوں سے بڑھ کر لذت اس تعلق میں ہے جو اللہ تعالیٰ سے جب اس کا کوئی بندہ اپنا تعلق قائم کرے تو اسے حاصل ہوتی ہے۔