خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 558
558 اختتامی خطاب سالانہ اجتماع 1969ء آپ نے تشہد۔تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد سورۃ ابراہیم کی پہلی آیت تلاوت کی اور پھر ان ممبرات اور نمائندگان کو مبارکباد دی۔جنہوں نے انعامات حاصل کئے اور آئندہ اس سے بھی بڑھ چڑھ کر ذوق و شوق سے ترقی کرنے صفائی اور انتظامی امور کی طرف خاص توجہ دینے کی تلقین کی۔اس کے بعد فر مایا کہ نئے سال کے لئے ہمارالائحہ عمل وہی ہوگا جس کی ہدایت حضرت خلیفہ اسی الثانی ایدہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے کی ہے۔یعنی سورۃ بقرہ کی پہلی سترہ آیات حفظ کرنا۔(جس کا معیار سو فی صدی ہونا چاہئے ) اور علم عقیدے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ ذاتی تعلق پیدا کرنے کے لحاظ سے پیدائشی احمدیوں کو از سر نو احمدی بنانا۔خطاب کے اگلے حصہ میں آپ نے تحریک تعلیم القرآن کو کامیاب تر بنانے پر زور دیا۔اور سورۃ ابراہیم کی پہلی آیت کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا۔کہ اس مقدس آسمانی صحیفے کا علم حاصل کرنے والوں سے خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کو اندھیروں اور گمراہیوں سے نکال کر نور کی طرف لے جائے گا۔قرون اولیٰ میں جب مسلمانوں نے اس کتاب کا سہارا لیا۔تو وہی جنگلوں اور بیابانوں میں رہنے والی وحشی قوم دیکھتے ہی دیکھتے روحانی اور مادی لحاظ سے تمام دنیا پر غالب آگئی اور وہی لوگ جنہیں دنیا میں کوئی مقام حاصل نہیں تھا کچھ ہی عرصے میں سیاست ، فقہ اور دیگر تمام علوم میں استاد تسلیم کر لئے گئے۔لیکن پھر جب انہوں نے سادگی اور دینداری کو چھوڑ دیا اور تکلفات ان کے اندر آگئے تو اس بُری طرح ہر ملک سے نکالے گئے کہ بعض جگہ ان کا نام تک باقی نہ رہا۔تب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے از سر نو سعید روحوں کی جھولیاں روحانی خزائن سے بھر دیں۔اور قرآنی علوم کے چشمے سے ان کو سیراب کیا۔آپ کے بعد آپ کے خلفاء نے یہ کام سرانجام دیا۔اور دے رہے ہیں۔لہذا ضروری ہے کہ مادی اور روحانی ترقیات کے حصول کے لئے قرآن کا علم زیادہ سے زیادہ حاصل کیا جائے اور اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالا جائے۔خطاب کے آخری حصے میں آپ نے ترک رسومات اور بدعات سے پر ہیز کی طرف توجہ مبذول کرائی۔اور آنحضرت ﷺ کی اس حدیث کی روشنی میں کہ: 66 دو تم میں سے ہر شخص رائی ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے پرسش ہوگی۔“ بخاری کتاب الجمعه