خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 557 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 557

557 قربانی کی لگن ہماری باقی سب کا رکنات میں بھی پیدا کر دے۔اور ہم سب مل کر اشاعت اسلام کا فریضہ انجام دے سکیں۔لجنہ کا سب سے اہم کام تعلیم القرآن ہے۔سال رواں میں تمام لبنات ہی نے اس سلسلہ میں خاصی جدو جہد کی ہے۔لیکن ابھی منزل بہت دور ہے۔جب تک ہماری سو فیصدی بچیاں اور خواتین قرآن مجید کا ترجمہ نہیں پڑھ لیتیں۔ہمارا مقصد حاصل نہیں ہوتا۔آئندہ اچھے نتائج دکھانے کے لئے ہم نے اپنی توجہ چھوٹی بچیوں اور لجنہ کی ان ممبرات کی طرف کرنی ہے جو پندرہ سے چالیس تک کی ہیں۔اس لئے میری تجویز ہے کہ ہر لجنہ اپنی ممبرات کا جائزہ لے کر پندرہ سے پچیس سال تک کی ممبرات کی فہرستیں تیار کریں جو ترجمہ نہیں جانتیں۔اور پھر پچیس سے چالیس سال تک کی۔سب سے زیادہ محنت پہلے گروپ یعنی پندرہ سے چھپیں سال تک کی بچیوں پر کی جائے تا اگلے پانچ سال میں کوئی ایسی لڑکی جو آج پندرہ سے 25 سال کی ہے اور پانچ سال بعد میں سال سے 30 سال تک کی ہوگی ایسی نہ رہے جو قرآن مجید کا ترجمہ ختم نہ کر چکی ہو۔یا کافی حد تک پڑھ نہ چکی ہو۔اگر اس طریق کار کو اپنا کر لجنات کام کریں گی تو مجھے یقین ہے کہ لجنہ آج سے پانچ سال بعد نہایت خوشکن نتائج حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کر سکتی ہے۔اس عظیم الشان مقصد کو پورا کرنے کے لئے بڑی محنت اور قربانی کی ضرورت ہے۔ایسی بہنیں جو قرآن مجید کا ترجمہ جانتی ہیں آگے آئیں اور اپنے آپ کو اس خدمت کے لئے وقف کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ابتدا ہی سے جماعت کو اس طرف توجہ دلائی ہے کہ اسلام کا زندہ ہونا ہم سے ایک فدیہ مانگتا ہے وہ کیا ہے؟ ہمارا اسی راہ میں مرنا۔یہی موت ہے جس پر اسلام کی زندگی۔مسلمانوں کی زندگی اور زندہ خدا کی تجلی موقوف ہے۔اس موت کو اپنے پر وارد کرنے کے لئے ہمیں وقت کی قربانی بھی دینی ہوگی۔جذبات کو بھی قربان کرنا پڑے گا۔رسم و رواج کو بھی ترک کرنا ہوگا۔اولاد کی قربانیاں بھی دینی ہوں گی۔اور ان سب مادی اشیاء سے منہ موڑ کر اللہ تعالیٰ کی خاطر رسم و رواج اور دستوروں کو اپنانا ہوگا۔جو قرآن کے بتائے ہوئے ہیں۔اور ان باتوں پر چلنا ہو گا جومحمد رسول اللہ ﷺ نے سمجھاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے۔آمین اللھم آمین مصباح نومبر 1969ء