خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 538 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 538

538 بھی ایمان کا حصہ قرار دیا ہے مگر جلسہ سالانہ اور بڑے اجتماعوں کے موقع پر جو ہمارے راستوں کا حشر ہوتا ہے اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں بہنیں خود ہی جانتی ہیں۔آپس میں اخوت اور محبت کے جذبات پیدا کرنے کے لئے آنحضرت ﷺ نے مجلسوں کے متعلق بھی احکام بیان فرمائے ہیں جن میں سے سب سے پہلا دعوتوں کے متعلق ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا کوئی بلائے تو اس کی دعوت بلا کسی معقول عذر کے ضرور قبول کرو کیونکہ دعوت محبت کی زیادتی کے لئے ہوتی ہے لیکن جسے بلایا جائے صرف وہی جائے کبھی بغیر بلائے نہ خود جاؤ نہ کسی کو ساتھ لے کر جاؤ تا دوسروں کو تکلیف نہ ہو۔مجلس میں کشادہ حلقہ بنا کر بیٹھو۔ایک دوسرے کے اوپر سے نہ پھلانگو کسی کو متعدی مرض ہو تو ان دنوں میں وہ جمعہ یا جلسوں یا مجالس میں شرکت نہ کرے ورنہ شہر میں بیماری پھیلنے کا خطرہ ہے مجلس میں کوئی بات کرنے یا تقریر کرنے کے لئے کھڑا ہو تو اس کی بات توجہ سے سنیں دوران تقریر شور نہ مچائیں خواہ وہ طبیعت کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔جانے کی ضرورت پیش آئے تو صدر مجلس سے اجازت لے کر جائیں۔مجلس میں تین آدمی ہوں تو دو آدمی کبھی اس رنگ میں بات نہ کریں کہ تیسرا شخص سمجھے کہ میرے متعلق بات کی جارہی ہے۔یہ باتیں بظاہر چھوٹی چھوٹی لیکن بڑی پُر حکمت ہیں۔آپ میں سے اکثر کو ان باتوں کا علم بھی ہوگا لیکن یہ حقیقت ہے کہ ان میں سے پچاس فیصدی پر عمل بھی نہیں ہوتا۔یہ نقشہ ہے اسلامی تہذیب کا۔یہ نقشہ ہونا چاہئے احمد یہ معاشرہ کا کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو کچھ ہمارے سامنے رکھا ہے قرآن سے ہی اخذ کیا ہے اور آنحضرت ﷺ کے ارشادات پر عمل کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔تمدن کا تعلق قومی پاکیزگی سے ہے جس کی کسی قدر تفصیل اور وہ اصول جن پر عمل کرنے سے قوم کا پاکیزگی کا معیار بلند ہوتا ہے بیان کر آئی ہوں۔لیکن اخلاق کا تعلق افراد کی پاکیزگی سے ہے۔افراد میں پاکیزگی کا معیار بلند ہونا بہت ضروری ہے معاشرہ افراد کے مجموعہ کا نام ہے جب افراد کی پاکیزگی کا معیار بلند ہوگا تو قوم کا معیار اخلاق خود بخود اعلی سطح پر آجائے گا۔اخلاق نام ہے انسانی طبعی تقاضوں کو عقل اور مصلحت کے مطابق استعمال کرنے کا یہی چیز اسے دوسرے حیوانوں سے ممتاز کرتی ہے انہی تقاضوں کا غلط استعمال بدی یا گناہ کہلاتا ہے۔بدی اور گناہ کے پیدا ہونے کی سب سے بڑی وجہ عدم علم اور عدم معرفت ہے جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔