خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 537
537 گرا ہوا تیرا ٹھا کر اس شخص کے سینہ میں گھونپ دیا۔اللہ تعالیٰ نے بُرائی کی اشاعت کرنے سے منع فرمایا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی فرمایا ہے کہ معاشرہ میں کوئی خرابی نظر آئے تو ذمہ دار ہستیوں تک پہنچاؤ۔ہر کس و ناکس سے بات کرنا تمہارا کام نہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔وَإِذَا جَاءَ هُمُ أَمْرٌ مِّنَ الْآمَنَ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رُدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِيْنَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطَنَ إِلَّا قَلِيلاً (سورة النساء : 84) ( ترجمہ ) اور جب بھی ان کے پاس امن کی یا خوف کی کوئی بات پہنچتی ہے تو وہ اسے مشہور کر دیتے ہیں اور اگر وہ اسے رسول کی طرف اور اپنے حکام کی طرف لے جاتے تو ان میں سے جولوگ اس یعنی مقررہ بات کی اصلیت کو معلوم کر لیا کرتے ہیں اس کی حقیقت کو پالیتے ہیں اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو سوائے چند ایک کے باقی لوگ شیطان کے پیچھے چل پڑتے ( تفسیر صغیر ) ہماری احمدی بہنوں کو اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہمیشہ ذہن نشین رکھنا چاہئے اور کسی قسم کی کوئی افواہ ہو یا معاشرہ کی کوئی خرابی نظر آئے اس کے متعلق صرف ذمہ دار ہستیوں بلکہ اس آیت کے مطابق اول الامر کو یعنی حضرت خلیفتہ اسیح ایدہ اللہ تعالیٰ یا آپ کے مقرر کر دہ امراء کی خدمت میں ہی لکھنا چاہئے۔اسلامی تہذیب کا ایک ضروری امر ہر مسلمان مرد اور عورت کا باوقار رہنا ہے خواہ لباس کے لحاظ سے ہو یا عادات کے یا چال ڈھال کے لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی اولاد کے لئے جو دعائیں مانگی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے۔ع اہل وقار ہوویں فخر دیا ر ہوویں ہم بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی روحانی اولاد ہیں ہمارا فرض ہے کہ ہر لحاظ سے باوقار ہوں کہ یہی ایک مسلمان کی شان ہے۔پھر ایک مسلمان شہری کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ راستہ یا لوگوں کے جمع ہونے کی جگہوں پر گند نہ پھینکے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص ایسی جگہ غلاظت پھینکتا ہے جہاں لوگ راستہ پر چلتے یا آرام کے لئے بیٹھتے ہوں اس پر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی نازل ہوتی ہے۔ہماری بہنوں کے لئے آنحضرت ﷺ کا یہ ارشا و معلوم ہونے کے بعد بہت ہی خوف کا مقام ہے۔آنحضرت ﷺ نے تو راستہ میں سے کاٹنے ہٹانے کو