خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 539
539 لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السُّوءَ بِجَهَالَةٍ (النساء : 18) جولوگ بدی کے مرتکب ہوتے ہیں اس کی اصل وجہ جہالت ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی صحیح معرفت کا نہ ہونا اور شریعت کے احکام کا صحیح علم نہ ہونا ورنہ جان بوجھ کر سوچتے سمجھتے ہوئے کوئی انسان زہر نہیں کھایا کرتا۔پس اصل اخلاق یہی ہیں کہ ذات باری کی صفات کی معرفت حاصل کی جائے اور ان صفات کو اپنے دائرہ کے اندر پیدا کرنے کی کوشش میں لگا رہے۔حضرت مصلح موعود نے یہ مضمون اپنے لیکچر د تعلق باللہ میں بڑے لطیف انداز میں بیان فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ رب ہے اپنے دائرہ میں گھر والوں بچوں اور عورتوں کی تربیت کر کے آپ ان صفات کی ایک جھلک اپنے میں پیدا کر سکتی ہیں۔اللہ تعالیٰ الجھی ہے روحانی زندگی قوم میں پیدا کر کے اپنے آپ کو اس صفت کا ایک حد تک مظہر ثابت کر سکتی ہیں۔اللہ تعالیٰ غفور ہے ستار ہے رحیم ہے ہر صفت کا اپنے محدود دائرہ عمل میں مظہر بننا ہر انسان کا کام ہے بہنوں کو چاہئے کہ یہ کتاب ضرور پڑھیں) ایک اصول اخلاق کے متعلق یا درکھنا چاہئے۔اسلام نے اخلاق ظاہری کو ہی تسلیم نہیں کیا بلکہ دل کے جذبات اور نیتوں کو بھی اخلاق کا حصہ قرار دیا ہے اور ان کے مطابق سزاو جزا کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ (سوره الانعام : 152) بدی کے قریب تک نہ جاؤ خواہ وہ ظاہری ہو یا مخفی مخفی بدی کا یہی مطلب ہے کہ اس بدی کا ارتکاب جوارح نہیں بلکہ دل کر رہا ہے۔ظاہری نظروں سے دنیا کو وہ نظر نہیں آتیں سوائے اس کے خود انسان اپنے جرم کا اعتراف کرے۔اسی طرح قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- إِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبُكُمْ بِهِ اللَّهُ (البقره: 285) اللہ تعالیٰ کی طرف سے محاسبہ صرف ظاہری اعمال پر ہی نہیں ہوگا بلکہ ولی خیالات پر بھی ہوگا۔اسی مضمون کو آنحضرت ﷺ نے إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ (بخاری کتاب بدء الوحي) کے الفاظ میں ادا فرمایا ہے کہ اعمال کی جزا سزا کا انحصار نیتوں پر ہے۔کسی انسان میں سوائے اس کہ جس کی اللہ تعالیٰ خاص مدد کرے یہ طاقت نہیں کہ وہ ایک دم بُرائیاں چھوڑ