خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 517
517 قرب اس کا نہیں پاتا نہیں پاتا محمود نفس کو خاک میں جب تک نہ ملائے کوئی روحانی ترقی کی خواہش ہو۔بلند ہمتی ہو۔ہمت نہ ہارے بغیر تھکے قربانیاں دیتا چلا جائے۔خود اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلَاقِيهِ سورة الانشقاق : 7 خدا تعالیٰ کا ملنا آسان نہیں۔اس کے ملنے کیلئے بڑی محنت بڑی کاوش بڑی قربانی درکار ہے۔ایک معمولی بات کے حصول کے لئے کتنی محنت کرنی پڑھتی ہے تو قرب اٹھی تو دین و دنیا کی نعمتوں میں سے سب سے بڑی نعمت ہے اس نعمت کو حاصل کرنے کیلئے تو اپنا سب کچھ قربان کرنا پڑے گا۔تھوڑی سی قربانی پر مطمئن نہیں ہونا ہوگا۔نچلے درجوں پر ان کے قدم نہیں ٹھہریں گے۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں:۔میں اپنے پیاروں کی نسبت ہرگز نہ کروں گا پسند کبھی راضی ہوں اور ان کی نگاہ رہے نیچی! وہ چھوٹے درجہ پر پھر اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:۔وَاللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ (سورة المآئدة: 65) اللہ تعالیٰ فساد کرنے والوں سے پیار نہیں کرتا۔اللہ تعالیٰ ساری دنیا کا خالق ہے۔اسے اپنے سب ہی بندے عزیز ہیں۔جس طرح ایک ماں یہ نہیں چاہتی کہ اس کے بچے آپس میں لڑیں جھگڑیں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ جو ماں سے بڑھ کر محبت کرنے والا ہے۔یہ کس طرح برداشت کر سکتا ہے کہ اس کے بندے آپس میں لڑتے رہیں۔فساد پیدا ہونے کی دو بڑی وجہیں ہوتی ہیں۔ایک غیبت دوسرے بدگمانی۔ان دونوں باتوں سے ہی قرآن مجید نے روکا ہے کہ ایک دوسرے کی کبھی غیبت نہ کرو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا الحجرات: 13 کیا تم میں سے کوئی شخص اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے۔غیبت کرنا ایک کی بات سن کر دوسرے کو پہنچانا یہ مُردہ بھائی کا گوشت نوچ کر کھانے والی بات ہے۔کتنے ہی اچھے تعلقات ہوں۔لیکن غیبت ایسی بُری چیز ہے کہ معاشرہ کے امن کو تباہ و برباد کر دیتی ہے۔افسوس ہے کہ عورتوں میں یہ مرض زیادہ پایا جاتا ہے۔اس بُرائی کو اپنے میں سے دور کرنے کی ہر عورت کو کوشش کرنی چاہئے۔اور اپنی زبان کو فساد کا