خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 518 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 518

518 موجب نہ بنے دینا چاہئے۔اپنی اولادوں کی تربیت کرتے رہنا چاہئے کہ یہ بُرائی بچوں میں پیدا نہ ہونے پائے۔آنحضرت صلعم نے فرمایا ہے کہ چغلخور جنت میں نہیں جاسکے گا۔کون چاہتا ہے کہ ایک معمولی سی بُرائی کے نتیجہ میں جنت اور محبت الہی سے محروم رہ جائے۔معاذ اللہ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔پس تم بچاؤ اپنی زبان کو فساد سے ڈرتے رہو عقوبت رب العباد سے پھر فساد بڑھتا ہے بدظنی سے۔اسلئے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے تجسس کرنے سے منع فرمایا ہے۔بدگمانی ایسا زہر ہے کہ اگر دل میں بیٹھ جائے تو اس کی روحانیت کو ہلاک کر دیتا ہے۔آپس کے تعلقات خراب کر دیتا ہے۔کسی انسان میں بدظنی کا مادہ پیدا ہو جائے تو پہلے وہ اپنے دوستوں رشتہ داروں۔ملنے جلنے والوں کے متعلق بدظنی کرتا ہے پھر نظام جماعت کے عہدیداران کے متعلق پھر خلیفہ وقت کے متعلق یہانتک کہ نعوذ باللہوہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق بھی بدظنی سے کام لینے لگتا ہے۔افواہیں پھیلنی اور بات کا بتنگڑ بنا بھی بدگمانی کا نتیجہ ہوتا ہے۔پس ہمیشہ نیک ظن کرنا چاہئے۔بغیر تحقیقات کسی کے متعلق بڑا خیال نہیں رکھنا چاہئے۔اور جس بات کو اپنی آنکھ سے نہیں دیکھا کسی دوسرے سے بیان نہیں کرنی چاہئے ورنہ بدگمانی سے تو رائی کے بھی بنتے ہیں پہاڑ پر کے اک ریشے سے ہو جاتی ہے کو وں کی قطار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کتنا پر حکمت اور کتنی پر امن فضا پیدا کرنے والا ہے کہ لَيْسَ الْخَبْرُ كَالْمُعَايِنَةِ (مسند احمد بن حنبل) سنی سنائی بات قابل اعتبار نہیں ہوتی۔اسے وہ درجہ نہیں دیا جا سکتا جو آنکھ سے دیکھی ہوئی بات کو پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے اور نہ سنی سنائی بات کو آگے دہرانا چاہئے اور نہ اس پر اعتبار کرنا چاہئے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ایک اور بُرائی بیان فرمائی ہے جس کا کسی میں پایا جانا اسے اللہ تعالیٰ سے دور کر دیتا ہے۔فرماتا ہے:۔اِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ خَوانِ كَفُورٍ (سورة الحج : 39) خائن کے ساتھ ساتھ اللہ تعالٰی نا شکر گذار انسان سے بھی محبت نہیں کرتا۔اس کے برعکس شکر گذار بندے کو اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے۔فرماتا ہے:۔