خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 516 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 516

516 ایک اور بُرائی جو اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے میں روک ہے وہ خیانت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْخَائِنِينَ (سورۃ انفال: 59) قرآن مجید میں دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔اِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا أَثِيمًا (سورة النسآء: 108) اللہ تعالیٰ خائن اور گناہ گار سے محبت نہیں کرتا۔حدیث میں آتا ہے کہ حضرت ابوھریرہ بیان کرتے ہیں۔کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے۔”اے میرے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں۔بھوک سے جس کا ساتھ اور اوڑھنا بچھونا بہت بُرا ہے اور میں پناہ مانگتا ہوں خیانت سے کیونکہ یہ انسان کے اندرونے کو خراب کر دیتی ہے۔“ ابن ماجہ کتاب الاطعمہ کے اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منافق کی چار نشانیاں بیان فرمائی ہیں۔جن میں سے ایک خیانت ہے۔اسلام نے دیانتداری پر جتنا زور دیا ہے افسوس کہ موجودہ مسلمان اس معیار کے مطابق اپنے کاروبار اور لین دین نہیں کرتے۔اشیائے خوراک میں ملاوٹ، لین دین میں دھوکا اور فریب سب خیانت کے ہی کرشمے ہیں۔احمدیت کا تو دعوی ہی یہ ہے کہ حقیقی اسلام کا قیام پھر سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ہوا ہے اس لئے احمدیوں کو ہر اس بات سے بچنا چاہئے جس سے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں منع فرمایا ہے۔اور جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا ہے۔یہ فعل اللہ تعالیٰ کی محبت سے دور لے جانے والا ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ خائن سے محبت نہیں کرتا۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے: اِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِينَ۔(القصص: 77) اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے محبت نہیں کرتا جو جلدی سے خوش ہو جائیں۔تھوڑا سا کام کر کے مطمئن ہو جائیں۔محبت الہی کا مقام تو بلند ترین مقام ہے جو بلند پرواز کے لئے پر ہی نہیں رکھتا۔جو اس مقام تک پہنچنے کی ہمت ہی نہیں رکھتا تھوڑی سی عبادت۔تھوڑی سی قربانی سے خوش ہو جاتا ہے کہ بہت کچھ کر لیا۔وہ محبت الہی کا اعلیٰ ترین نصب العین کس طرح حاصل کر سکتا ہے۔سب کچھ قربان کر کے بھی سمجھو کہ کچھ نہیں کیا۔اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے ضرورت ہے استقامت کی۔ضرورت ہے صبر کی۔ضرورت ہے قربانیوں کے تسلسل کی۔ضرورت ہے نفس کو خاک میں ملا دینے کی۔کیونکہ