خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 515 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 515

515 اپنے کاموں میں حد سے گذرنے والوں سے اللہ تعالیٰ محبت نہیں کرتا۔کسی کام میں بھی حد سے نہیں گذرنا چاہئے۔خواہ خرچ کا سوال ہو معاملات کا یا آپس کے سلوک کا بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ کسی سے ناراض ہوئے تو خواہ کچھ بھی ہو جائے دل صاف ہی نہیں ہوتا۔سزا دینے پر آئیں تو حد سے بڑھ جاتے ہیں۔مہربان ہوں تو حد سے بڑھ کر ہیں۔خرچ کرنے پر آئیں تو انجام کا خیال نہیں رہتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:۔خَيْرُ الْأُمُورِ أَوْسَطُهَا ہر کام میں میانہ روی کی عادت ڈالنی چاہئے۔قناعت کی عادت ڈالنی چاہئے کہ یہ صفات اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں۔اسی طرح قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔"إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا (سورة النساء: 37) نیز فرماتا ہے:۔إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِينَ ﴿النحل: 24 جس شخص میں کبر اور فخر کی عادت ہو اللہ تعالیٰ اس سے محبت نہیں کرتا۔فخر کا مطلب یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہو اور بڑائی کو اپنی طرف منسوب کرے۔حضرت عبداللہ بن مسعود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں:۔قَالَ لَا يَدْخُلِ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِّنْ كِبْرٍ فَقَالَ رَجُلٌ أَنَّ الرَّجُلَ يُحِبُّ أَنْ يَكُونَ ثَوْبُهُ حَسَنًا وَنَعْلُهُ حَسَنَةٌ۔قَالَ إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يَحِبُّ الْجَمَالَ۔الْكِبَرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَ غَمْطُ النَّاسِ۔مسلم کتاب الایمان ترجمہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جس کے دل میں ذرہ بھر بھی تکبیر ہوگا۔اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں نہیں داخل ہونے دے گا۔ایک شخص نے عرض کیا انسان چاہتا ہے کہ اس کا کپڑا اچھا ہو۔جوتی اچھی ہو وہ خوبصورت لگے۔آپ ﷺ نے فرمایا یہ تکبر نہیں۔اللہ تعالیٰ جمیل ہے جمال کو پسند کرتا ہے۔تکبر دراصل یہ ہے کہ انسان حق کا انکار کرے۔لوگوں کو ذلیل سمجھے اور ان سے بُری طرح پیش آئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔اے کرم خاک! چھوڑ دے کبر و غرور کو زیبا ہے کتبر حضرت رب غیور کو بدتر بنو ہر ایک سے اپنے خیال میں شاید اسی سے دخل ہو دار الوصال میں