خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 500 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 500

500 دوم: نزول قرآن کو خود اللہ تعالیٰ نے عظیم الشان معجزہ قرار دیا ہے۔فرماتا ہے:۔اَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ يُتْلَى عَلَيْهِمْ إِنَّ فِي ذَالِكَ لَرَحْمَةً وَّ ذِكْرَى لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ۔(العنكبوت: 52) ترجمہ: کیا ان کے لئے یہ نشان کافی نہ تھا کہ ہم نے تجھ پر ایک مکمل کتاب قرآن کو نازل کیا۔جو انہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہے۔اس امر میں مومنوں کیلئے تو بڑی رحمت اور نصیحت کے سامان ہیں۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کیا قرآن مجید نازل کر دینے کے بعد بھی کسی اور معجزہ کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟ یعنی حقیقت تو یہ ہے کہ صرف قرآن مجید ہی اللہ تعالیٰ کی ہستی تھی۔اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کیلئے ایک اکیلا کافی نشان تھا۔اس کے بعد کسی اور معجزہ کی ضرورت ہی نہ تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔آج روئے زمین پر سب الہامی کتابوں میں سے ایک فرقان مجید ہی ہے کہ جس کا کلام الہی ہونا دلائل قطعیہ سے ثابت ہے۔جس کے اصول نجات کے بالکل راستی اور وضع فطرتی پر مبنی ہیں۔جس کے عقائد ایسے کامل اور مستحکم ہیں جو براہین قومیہ ان کی صداقت پر شاہد ناطق ہیں جس کے احکام حق محض پر قائم ہیں۔جس کی تعلیمات ہر یک طرح کی آمیزش شرک اور بدعت اور مخلوق پرستی سے بکلی پاک ہیں جس میں توحید اور اور عظیم الہی اور کمالات حضرت عزت کے ظاہر کرنے کیلئے انتہا کا جوش ہے۔جس میں یہ خوبی ہے کہ سراسر وحدانیت جناب الٰہی سے بھرا ہوا ہے اور کسی طرح کا دھبہ نقصان اور عیب اور نالائق صفات کا ذاتِ پاک حضرت باری تعالیٰ پر نہیں لگاتا روحانی خزائن جلد 1۔براہین احمدیہ ص 81 82 تیسری اہم بات جس کو اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے۔وہ مبارک کا لفظ ہے۔یہ قرآن بہت ہی برکتوں والا ہے۔مبارک برکت سے نکلا ہے اور برگہ اس نیچی جگہ کو کہتے ہیں جہاں بارش ہونے پر اردگرد کا تمام پانی بہ کر جمع ہو جائے۔یعنی قرآن مجید تمام صداقتوں اور تمام اعلیٰ تعلیموں کا نچوڑ اور مخزن ہے۔کوئی اعلیٰ درجہ کی تعلیم اس سے باہر نہیں۔کوئی دائمی صداقت ایسی نہیں جس کو قرآن نے بیان نہ کیا ہو۔وہ ایک ایسا سمندر ہے جس میں ہر زمانہ اور ہر ضرورت کے وقت اس کے مطابق ہدایت ملتی چلی جائے گی۔اس کے علوم غیر محدود ہیں۔جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:۔قُل لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادَ لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي