خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 501 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 501

501 وَلَوْجِتُنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا (سورة الكهف : 110) یعنی اگر خدا کے کلام کے لکھنے کیلئے سمندر کو سیاہی بنالیا جائے تو لکھتے لکھتے سمند ر ختم ہو جائے اور کلام میں کچھ کم نہ ہو گو ویسے ہی سمندر بطور مدد کے کام میں لائے جائیں۔سورۃ انبیاء آیت 51 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَهَذَا ذِكْرٌ مُبَارَكٌ أَنْزَلْنَاهُ۔(الانبياء: 51) اس کا ترجمہ انہی معنوں کی رُو سے حضرت خلیفہ اسی الثانی نے یوں کیا ہے کہ یہ قرآن ایک ایسی یاد دہانی کرنے والی کتاب ہے جس میں تمام آسمانی صحیفوں کی خوبیاں بہہ کر آگئی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔”اے بندگان خدا ! یقیناً یا درکھو کہ قرآن شریف میں غیر محدود معارف و حقائق کا اعجاز ایسا کامل اعجاز ہے جس نے ہر ایک زمانہ میں تلوار سے زیادہ کام کیا ہے اور ہر یک زمانہ اپنی نئی حالت کے ساتھ جو کچھ شبہات پیش کرتا ہے۔یا جس قسم کے اعلیٰ معارف کا دعویٰ کرتا ہے اس کی پوری مدافعت اور پورا الزام اور پورا پورا مقابلہ قرآن شریف میں موجود ہے۔کوئی شخص برہمو یا بدھ مذہب والا یا آریہ یا کسی اور رنگ کا فلسفی کوئی ایسی الہی صداقت نکال نہیں سکتا جو قرآن شریف میں پہلے سے موجود نہ ہو قرآن شریف کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہو سکتے اور جس طرح صحیفہ فطرت کے عجائب وغرائب خواص کسی پہلے زمانہ تک ختم نہیں ہو چکے بلکہ جدید در جدید پیدا ہوتے جاتے ہیں۔یہی حال ان صحت مطہرہ کا ہے تا خدائے تعالیٰ کے قول اور فعل میں مطابقت ثابت ہو۔روحانی خزائن جلد 3 ازالہ اوہام صفحہ 257 258 اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر قرآن کریم کے جو عجائبات کھولے ان کی نظیر نہیں ملتی اور آئندہ بھی جب بھی قرآن مجید پر کوئی اعتراض اُٹھے گا قرآن کی تلوار ہی اس کو کاٹ کر رکھ دے گی۔اللہ تعالیٰ نے یہ مضمون اس طرح بھی بیان فرمایا ہے۔فرماتا ہے: وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ ﴿سورة النحل: 90 کہ اے محمد رسول اللہ ! ہم نے تجھ پر ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں ہر چیز کا بیان موجود ہے۔جس کا کوئی کنارہ نہیں جب کسی چیز کی ضرورت محسوس ہو اسی سمندر میں غوطہ لگاؤ اور نکال لو۔ھدی کہکر اس طرف توجہ دلائی کہ غوطہ لگانیوالا غرق بھی ہو سکتا ہے۔اور نا کام بھی رہ سکتا ہے لیکن قرآن کے سمندر میں غوطہ لگانے والا اپنے مقصد میں نا کام نہیں رہے گا۔بلکہ اس سمندر میں غوطہ لگانے والا خدائی رحمتوں کا وارث