خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 482
482 تربیت اولا د ماؤں کی اہم ذمہ داری ہے:۔اس لئے ضرورت ہے کہ مائیں اپنی اولاد کی صحیح تربیت کریں۔نگرانی رکھیں کہ وہ سکولوں اور کالجوں میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے دوسرے طالب علموں کی صحبت میں ان بُرائیوں کا شکار نہ ہو جائیں جن کی رو میں بہتی ہوئی آج ہزاروں لڑکیاں نظر آرہی ہیں۔صحبت کا بڑا گہرا اثر ہوتا ہے۔ماؤں کا سب سے بڑا فرض اولاد کی تربیت ہے ان کو سچا مسلمان بنانا ہے جس کا پہلا قدم تقویٰ ہے۔بچپن اور نو جوانی کی عمر میں چھوٹی چھوٹی بُرائیوں ، بُری صحبت اور فضولیات سے علیحدہ رکھا جائے تو آہستہ آہستہ ان کے دلوں پر نیکی کا گہرا اثر پڑنا شروع ہو جائے گا جس کی جڑیں آہستہ آہستہ گہری ہوتی جائیں گی۔لڑکیوں اور عورتوں میں نامناسب اور بر ہنہ لباس بھی تقوی کے خلاف ہے شروع میں نہایت تنگ لباس بغیر آستین قمیض شروع ہوتی ہے اور کہا یہ جاتا ہے کہ عورتوں کی مجلس میں ہم ایسا لباس پہنتی ہیں کیا حرج ہے کیا برائی ہے۔لیکن یہی بُرائی آخر ان کو لے ڈوبتی ہے اور وہ جو بجھتی تھیں کہ صرف لباس اپنے شوق کا پہن لیا کل کو وہ بچیاں بے پردگی اختیار کر کے اللہ تعالیٰ اور قرآن کے حکم کو توڑنے والیاں بن جاتی ہیں۔پس میری بہنو! اللہ تعالیٰ کا خوف اصل چیز ہے کہ دل ڈرتا ر ہے ہر وقت خدا تعالیٰ کے کسی حکم کی نافرمانی مجھ سے نہ ہو جائے۔جب انسان نافرمانی کے مقام سے اپنے آپ کو پرے رکھے گا تو بہت سے گنا ہوں سے خود بخو د بچ جائے گا۔دوسرا اصول جو اللہ تعالیٰ نے آیات میں بیان فرمایا ہے وہ وَاَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمُ (الانفال: 2) ہے۔ایک دو یا چند انسانوں کی اصلاح سے مثالی معاشرہ پیدا نہیں ہوسکتا جب تک ہر انسان دوسرے کی اصلاح کی ذمہ داری نہ اٹھائے۔آنحضرت ﷺ کی ایک حدیث لوگوں میں مصالحت کرانے کی فضلیت کے متعلق بیان کرتی ہوں۔عَنْ أُمِّ كُلْمُومٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْسَ الْكَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ فَيَنْمِي خَيْرًا أَوْيَقُولُ خَيْرًا (بخاری کتاب الصلح) حضرت ام کلثوم بیان کرتی ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ وہ شخص جھوٹا نہیں کہلا سکتا جولوگوں کے درمیان صلح صفائی کرانے میں لگارہتا ہے یا بھلے اور نیکی بات کہتا ہے۔صلح۔فساد کی ضد کا لفظ ہے یعنی آپس میں ہر مسلمان کے دوسرے سے ایسے تعلقات ہوں جن میں کسی