خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 481 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 481

481 نے سمعنا واطعنا کا نعرہ لگایا اور قریب ساری جماعت نے ہی اس سے پر ہیز کیا اور وہی رقم جو سینما میں خرچ ہوتی تھی انہوں نے تبلیغ اسلام کے لئے خرچ کی۔اس وقت کے لوگوں نے خود تو ایک بڑی بھاری قربانی دے کر امام کے حکم پر لبیک کہا جماعت کی ترقی اور اسلام کی اشاعت کا ذریعہ بنے لیکن اپنے بچوں کی ایسی تربیت نہ کی کہ ان کے دلوں میں بھی وہی جذبہ پیدا ہوتا اور وہ بھی سینما بینی سے پر ہیز کرتے۔گواب نہایت قلیل تعداد ہی ایسے خیالات رکھنے والوں کی ہوگی لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض کہ ایک ایسی جماعت دنیا میں پیدا ہو جائے جو نمونہ ہو ساری دنیا کے لئے اس وقت ہی پوری ہوسکتی ہے کہ جب ہر شخص مرد ہو یا عورت لڑکا ہو یا لڑ کی لغویات سے پر ہیز کرنے والا اور تقویٰ کی راہوں پر قدم مارنے والا ہو۔جو خواتین یہ بجھتی ہیں کہ سینماد یکھنے کی ممانعت ایک وقتی اور عارضی حکم تھا ان کے علم کے لئے میں حضرت مصلح موعود کا ایک ارشاد پیش کرتی ہوں۔آپ فرماتے ہیں۔و بعض لوگوں کے منہ سے یہ بات بھی نکلی ہے کہ سینما کی ممانعت دس سال کے لئے ہے۔انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ بُرائی کا تعلق دس سال یا بیس سال سے نہیں ہوتا جس چیز میں کوئی خرابی ہو وہ کسی میعاد سے تعلق نہیں رکھتی اس طرح سے تو میں نے آپ لوگوں کی عادت چھڑائی ہے۔اگر میں پہلے ہی یہ کہ دیتا کہ اس کی ہمیشہ کے لئے ممانعت ہے تو بعض نوجوان جن کے ایمان کمزور تھے اس پر عمل کرنے میں تامل کرتے مگر میں نے پہلے تین سال کے لئے ممانعت کر دی اور اس کے بعد چونکہ عادت بالکل ہی نہیں رہے گی اس لئے دوست خود ہی کہیں گے کہ جہنم میں جائے سینما اس پر پیسے خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔پس سینما اپنی ذات میں بُرا نہیں بلکہ اس زمانہ میں اس کی جو صورتیں ہیں وہ مخرب الاخلاق ہیں۔اگر کوئی فلم کی طور پر تبلیغی ہو یا تعلیمی ہو اور اس میں کوئی حصہ تماشہ وغیرہ کا نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔اگر چہ میری رائے یہی ہے کہ تماشہ تبلیغی بھی ناجائز ہے۔پس کوئی حرکت خواہ وہ کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو اگر اس کا مقصد تماشہ دکھانا ہو تو وہ نا جائز ہے۔مگر سینما تو مخرب الاخلاق ہونے کی وجہ سے ہی نا جائز قرار دیا گیا ہے۔اگر کوئی شخص مثلاً ہمالیہ پہاڑ کے نظاروں کی فلم تیار کرے اور وہاں کی برف، چوٹیوں کا نظارہ ہو تو چونکہ یہ چیز میں علمی ترقی کا موجب ہوں گی میں اس سے نہیں روکوں گا۔جس چیز کو ہم روکتے ہیں وہ اخلاق کو خراب کرنے والا حصہ ہے لیکن اس کی دوبارہ اجازت کا خیال آپ لوگوں کو دل سے نکال دینا چاہئے۔“ ( تقریر حضرت خلیفتہ اسیح الثانی مجلس مشاورت 39ء)