خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 483 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 483

483 قسم کا فساد واقع نہ ہو۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں۔تَرَى الْمُؤْمِنِينَ فِى تَرَاحُمِهِمْ وَ تَوَادِهِمْ وَتَعَاطْفِهِمْ كَمَثَلِ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ والحمى (بخاری کتاب الادب) تو مومنوں کو ان کی باہمی شفقت محبت اور ہمدردی میں ایک جسم کی طرح دیکھے گا جب اس کا ایک عضو دکھ میں ہوتا ہے تو باقی سارا جسم بھی اس کے باعث بے خوابی اور بخار کی وجہ سے بے قرار ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض پھر سے مسلمانوں کو سچا اور حقیقی مسلمان بنانا تھا۔جونمونہ بنیں قرآن مجید کی تعلیم کا اور ان کے ذریعہ ہر احمدی دوسرے احمدی سے ایسی محبت اور شفقت کرنے والا ہو کہ اس کے بہن یا بھائی کا دکھ اس کا اپنا دکھ اور اس کے بھائی یا بہن کی تکلیف اس کی اپنی تکلیف ہو۔وہ تکلیف جو اس کے بھائی یا بہن کو پہنچی خواہ جسمانی ہو یا روحانی خود اس کو بے قرار کر دے اور اپنے بھائی یا بہن کی تکلیف کو دور کرنے اور اس کی اصلاح کرنے کے لئے وہ ہر ممکن کوشش کرے ظاہری تدابیر سے ، ہمدردی سے نصیحت سے اور دعا سے۔یہی تعلیم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں دی۔فرماتے ہیں:۔جماعت کے باہم اتفاق و محبت پر میں پہلے بہت دفعہ کہہ چکا ہوں کہ تم باہم اتفاق رکھو اور اجتماع کرو۔خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہی تعلیم دی تھی کہ تم وجود واحد رکھو ورنہ ہوا نکل جائے گی۔نماز میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر کھڑے ہونے کا حکم اسی لئے ہے کہ باہم اتحاد ہو برقی طاقت کی طرح ایک کی خیر دوسرے میں سرایت کرے گی۔اگر اختلاف ہو اتحاد نہ ہو تو پھر بے نصیب رہو گے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ آپس میں محبت کرو اور ایک دوسرے کے لئے غائبانہ دعا کرو۔اگر ایک شخص غائبانہ دعا کرے تو فرشتہ کہتا ہے کہ تیرے لئے بھی ایسا ہی ہو۔کیسی اعلیٰ درجہ کی بات ہے۔اگر انسان کی دعا منظور نہ ہوتو فرشتہ کی تو منظور ہی ہوتی ہے۔میں نصیحت کرتا ہوں اور کہنا چاہتا ہوں کہ آپس میں اختلاف نہ ہو۔“ ملفوظات جلد اوّل صفحہ 336 میں دو ہی مسئلے لے کر آیا ہوں اول خدا کی توحید اختیار کرو۔دوسرے آپس میں محبت اور ہمدردی ظاہر کر وہ نمونہ دکھلاؤ کہ غیروں کے لئے کرامت ہو۔یہی دلیل تھی جو صحابہ میں پیدا ہوئی تھی كُنتُم أَعْدَاء فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمُ۔(آل عمران : 104 ) یا درکھو! تالیف ایک اعجاز ہے۔یادرکھو! جب تک تم میں ہر ایک ایسا نہ ہو کہ جو اپنے لئے پسند کرتا ہے وہی اپنے بھائی کے لئے پسند کرے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے وہ مصیبت اور بلا میں ہے اس کا انجام اچھا نہیں۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 336)