خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 480
480 اسی طرح معصیت کا بھی ایک سیاہ داغ دل پر ہوتا ہے۔صغائر سہل انگاری سے کہائر ہو جاتے ہیں صغائر وہی داغ چھوٹا ہے جو بڑھ کر آخر کار گل منہ کوسیاہ کر دیتا ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 7) پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔ہم کیونکر خدا تعالیٰ کو راضی کریں اور کیونکر وہ ہمارے ساتھ ہو اس کا اس نے مجھے بار بار یہی جواب دیا ہے کہ تقویٰ سے۔سواے میرے پیارے بھائیو! کوشش کرو تا متقی بنو۔بغیر عمل کے سب باتیں بیچ ہیں۔اور بغیر اخلاص کے کوئی عمل مقبول نہیں۔سو تقویٰ یہی ہے کہ ان تمام نقصانوں سے بیچ کر خدا تعالیٰ کی طرف قدم اٹھاؤ اور پر ہیز گاری کی باریک راہوں کی رعایت رکھو۔“ (روحانی خزائن جلد 3 ازالہ اوہام ص 547) گویا اللہ تعالیٰ کا صحیح عبد بنے اور اپنے معاشرہ اور انسانوں کو صحیح طور پر حقوق ادا کرنے کے لئے سب سے پہلا قدم تقویٰ ہے کہ انسان چھوٹی سے چھوٹی برائی اور گناہ سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرے۔کہیں ایک چھوٹی سی غلطی جو اس وقت بظاہر معمولی نظر آتی ہے مکڑی کے جالے کی طرح انسانی روح کے گرد ایسا جالاتن دے کہ پھر کچھ کئے نہ بنے۔موجودہ معاشرہ کی سب سے بڑی خرابی:۔میں نے کئی بچیوں اور خواتین کو جب بعض نا مناسب امور سے روکا جائے تو بارہا یہ کہتے ہوئے سنا ہے اس میں کیا حرج ہے معمولی سی بات ہے لیکن نادان یہ نہیں سمجھتیں جو بُرائی آج ایک خاتون نے معمولی سمجھ کر کی ہے کل وہ ایسی آگ کی شکل اختیار کر لے گی کہ بجھائے نہ بجھے گی اور اس کے شعلے ہر گھر تک پہنچیں گے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کی یہ خصوصیت بھی بیان فرمائی ہے عَنِ اللَّـغُومُعْرِضُونَ (المومنون : 4) لغویات سے وہ متنفر رہتے ہیں۔موجودہ معاشرہ کی سب سے بڑی خرابی لغویات ہیں۔سینما بینی ، فضول نا پسندیدہ لٹریچر، اچھی صحبت کا نہ ملنا ، فضول گانوں ڈراموں وغیرہ میں دلچسپی لینا۔ثقافت کے نام پر ناچ، گانے ، تماشے وغیرہ یہ سب امور معاشرہ کی فضا کو خراب کر رہے ہیں جن سے ہماری نئی نسل بھی متاثر نظر آتی ہے جماعت کی اصلاح اور تقویٰ کے معیار پر لانے کے لئے ہی حضرت مصلح موعود نے تحریک جدید جاری فرمائی اور جماعت کو سینماد یکھنے سے منع فرمایا۔میں نے بعض خواتین کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ وہ تو ایک عارضی اور وقتی حکم تھا سینما بینی تو بڑی فائدہ مند چیز ہے۔جب ساری دنیا دیکھتی ہے تو ہم کیوں نہ دیکھیں۔حضرت مصلح موعود نے جب یہ تحریک فرمائی کہ کوئی احمدی سینمانہ دیکھے تو ساری جماعت