خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 479 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 479

479 کرتے ہیں یہ مذکورہ بالا صفات رکھنے والے ہی سچے مومن ہیں ان کے رب کے پاس ان کے لئے بڑے بڑے مدارج اور بخشش کا سامان اور معزز رزق ہے۔“ تقویٰ کی اہمیت:۔کامل معاشرہ جو ساری دنیا کے لئے نمونہ کے طور پر پیش کیا جاسکے وہ معاشرہ ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر قائم ہو۔اللہ تعالیٰ نے اسی لئے مسلمانوں سے فرمایا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ تمہیں فتوحات عطا فرمائے۔مالوں کی فراوانی ہو تو تمہارا کام یہ ہے کہ تمہارا قدم تقویٰ پر ہو۔قرآن مجید نے تقویٰ کے مضمون کو اس تفصیل سے بیان فرمایا ہے کہ مختصر وقت میں اس کی تفصیل میں جانا ممکن نہیں۔ایمان کے ساتھ ضروری ہے کہ انسان متقی ہو۔یہ وہ کم سے کم معیار نیکی کا ہے جس کو حاصل کرنے کے بعد انسان اگر ایک طرف اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق قائم کر سکتا ہے تو دوسری طرف بندوں کے لئے ایک شفیق وجود بن جاتا ہے۔تقویٰ کا مطلب آسان الفاظ میں یہ ہے کہ انسان ہر کام کرتے ہوئے ڈرتا رہے کہ میرا یہ فعل اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب تو نہیں جس انسان کو یہ مقام حاصل ہو جاتا ہے کہ اسے ہر کام کرتے ہوئے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا خوف ہوتا ہے وہ گنا ہوں سے بچ جاتا ہے تکبر ، ریا کاری ، عیب اور خود پسندی سے محفوظ ہو جاتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ نیکیوں میں ترقی کرنا شروع کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی جماعت کے احباب کو تقویٰ کے متعلق کثرت سے نصائح فرمائی ہیں۔آپ فرماتے ہیں۔اپنی جماعت کی خیر خواہی کے لئے زیادہ ضروری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ تقویٰ کی بابت نصیحت کی جاوئے کیونکہ یہ بات عقل مند کے نزدیک ظاہر ہے کہ بجر تقویٰ کے اور کسی بات سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔إِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَو او الَّذِينَ هُم مُّحْسِنُونَ - (النحل: 129) ہماری جماعت کے لئے خاص کر تقویٰ کی ضرورت ہے خصوصاً اس خیال سے بھی کہ وہ ایک ایسے شخص سے تعلق رکھتے ہیں اور اس کے سلسلہ بیعت میں ہیں جس کا دعویٰ ماموریت کا ہے تا وہ لوگ جو خواہ کسی قسم کے بغضوں، کینوں یا شرکوں میں مبتلا تھے یا کیسے ہی رُوبہ دنیا تھے۔ان تمام آفات سے نجات پاویں۔آپ جانتے ہیں کہ اگر کوئی بیمار ہو جاوے خواہ اس کی بیماری چھوٹی ہو یا بڑی اگر اس بیماری کے لئے دوانہ کی جاوے اور علاج کے لئے دکھ نہ اٹھایا جاوے بیمار اچھا نہیں ہوسکتا۔ایک سیاہ داغ منہ پر نکل کر ایک بڑا فکر پیدا کر دیتا ہے کہ کہیں یہ داغ بڑھتا بڑھتا کل منہ کو کالانہ کر دے۔