خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 478
478 پر عمل کرے بالفاظ دیگر انسانی زندگی خواہ مرد کی ہو یا عورت کی زمانہ تعلیم اور پھر اس کے بعد امتحان دینے کی حیثیت رکھتی ہے جس کا نتیجہ موت کے بعد معلوم ہوگا کہ پاس ہوئے یا نہیں۔یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں جہاں اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا ذکر ہے ساتھ ساتھ یوم الآخرة پر ایمان رکھنے کا بھی ذکر ہے۔اُخروی زندگی پر کامل یقین کے بغیر اس دنیا کی زندگی ان اصولوں پر جو قرآن مجید نے بیان کئے ہیں انسان نہیں گزار سکتا۔دو قسم کی ذمہ داریاں:۔انسانی ذمہ داریاں جو قرآن مجید نے بیان کی ہیں وہ دو قسم کی ہیں ایک وہ جو اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی سے تعلق رکھتی ہیں دوسری وہ جو انسانوں کے حقوق کی ادائیگی سے تعلق رکھتی ہیں اور وہی انسان اپنی ذمہ داریوں اور فرائض سے پوری طرح سبکدوش ہونے کے قابل ہو سکتا ہے جو ہر دو قسم کے فرائض کو صحیح طور پر ادا کرے اگر دونوں میں سے ایک کی طرف سے تساہل برتا جائے تو وہ انسان ایمان کے ساتھ ساتھ اعمال صالحہ بجالانے والا نہیں کہلایا جاسکتا۔قرآن مجید نے صرف اس بات پر زور نہیں دیا کہ صرف ایک آدمی نیک ہو جائے یا دو چار دس ہیں آدمی اپنی اصلاح کر لیں اور اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے والے ہوں بلکہ قرآن مجید سارے اسلامی معاشرہ کی اصلاح پر زور دیتا ہے۔اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس طرح بیان فرمایا ہے:۔فَاتَّقُو اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ وَاَطِيْعُو اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنْ كُنتُمْ مُؤْمِنِينَ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمُ اينُهُ زَادَتْهُمْ إِيْمَانَا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَمِمَّا رَزَقْنهُمْ يُنْفِقُونَ۔أُولَئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَهُمْ دَرَجَاتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ۔(سوره الانفال 2 تا 5 ( ترجمہ ) پس اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اور آپس میں اصلاح کی کوشش کرو اور اگر تم مومن ہو تو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔مومن تو صرف وہی ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل ڈر جائیں اور جب ان کے سامنے اس کی آیات پڑھی جائیں تو وہ ان کے ایمان کو بڑھا دیں۔نیز مومن وہ ہیں جو اپنے رب پر تو کل کرتے ہیں۔اس طرح حقیقی مومن وہ ہیں جو نمازوں کو شرائط کے مطابق ادا کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے وہ خرچ