خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 440 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 440

440 تھا۔ایک دفعہ چند غرباء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا یا رسول اللہ امراء کے پاس دولت ہے وہ اسلام کی خاطر چندے دیتے ہیں بڑی بڑی مالی قربانیاں کرتے ہیں ہمارے پاس کچھ نہیں ہم کیا کریں۔آپ نے فرمایا تم تینتیس دفعہ سبحان اللہ تینتیس دفعہ الحمد للہ اور چونتیس دفعہ اللہ اکبر ہر نماز کے بعد پڑھا کرو۔وہ صحابہ جو ہر وقت اس فکر میں رہتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے کوئی بات نکلے اور ہم سب سے پہلے اس پر عمل کرنے والے ہوں۔ان سب تک یہ بات پہنچ گئی۔کیا غرباء اور کیا امراء سب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد پر عمل کرنا شروع کر دیا چند روز بعد وہ لوگ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ امراء نے بھی حضور کے اس ارشاد پر عمل کرنا شروع کر دیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا اگر کوئی نیکی کرنا چاہے تو میں اسے کیسے روک سکتا ہوں۔( بخاری کتاب الاذان ) یہ وہ جذ بہ قربانی اور فاستبقو الخیرات کی روح تھی۔جس نے صحابہ کو تھوڑے عرصہ میں دنیا کی حکومت عطا کر دی۔اگر صحابہ کرام والی یہ روح آج ہم میں پیدا ہو جائے تو یقیناً ہم اپنے عمل اور قربانیوں کے نتیجہ میں مساجد کے قیام کی غرض کو پورا کرنے والی بن سکتی ہیں اور اللہ تعالیٰ ہمارے وجودوں کو بابرکت بنادے گا۔اللہ تعالیٰ ہمارے گھروں کو بابرکت بنادے گا۔اللہ تعالیٰ کی برکت ہمارے شہر پر نازل ہوگی۔اس میں بسنے والا ہر شخص خدا تعالیٰ کی برکتوں کا حامل ہوگا۔اور دنیا ان سے برکت حاصل کرے گی ایسے ہی گھروں اور ان گھروں میں رہنے والوں کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:۔فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فَيْهَا اسْمُهُ۔يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ۔رِجَالٌ لا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلوةِ وَإِيتَاءِ الزَّكُوةِ يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيْهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ۔( سورة النور : 38۔37) اللہ تعالیٰ کا یہ نور کچھ ایسے گھروں میں ہے جن کے اونچا کیے جانے کا خدا نے حکم دے دیا ہے۔اور ان میں خدا کا نام لیا جاتا ہے اور ان میں اس کی تسبیح کی جاتی ہے دن کے وقتوں میں بھی شام کے وقتوں میں بھی اور یہ ذکر کرنے والے کچھ مرد ہیں جن کو اللہ کے ذکر سے اور نماز کے قائم کرنے سے اور زکوۃ کے دینے سے نہ تجارت اور نہ سودا بیچنا غافل کرتا ہے۔وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس میں دل الٹ جائیں گے اور آنکھیں