خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 441
پلٹ جائیں گی۔441 اس میں بتایا ہے کہ دنیا کا کاروبار۔گھر کے مشاغل تعلیم حاصل کرنا، تقریبات کسی قسم کا بھی کام ہو وہ ذکر الہی سے ہمیں غافل نہ کر دے۔ہمارے دل ہر وقت اللہ تعالیٰ کے ذکر سے منور ہوں اس کے نور سے دنیا کو منور کرتے رہیں اور اس طرح وہ چلتی پھرتی مسجد میں بن جائیں پس مساجد کو مبارک بنانے کے لئے ان میں نماز پڑھنے والے ہر شخص کو خود مبارک بننا چاہئے۔صاف دل، صاف روح کے ساتھ خدا کے گھر میں جانے والا ہو۔جس طرح مسجد میں ظاہری گند اور کوڑا کرکٹ پھینکنا منع ہے اس طرح مسجدوں کو آباد کرنے والوں کے دل بھی ہر قسم کے شرک کی ملونی سے صاف و پاک ہوں۔دنیا کی کوئی کدورت ان میں نہ ہو۔ان کے معاشرہ میں کسی قسم کی بدعت اور رسومات کا دخل نہ ہو۔وہ قال اللہ اور قال الرسول کے مطابق زندگیاں گزارنے والے ہوں۔دجالیت کی نقل کرنے والے نہ ہوں صرف قرآنی احکام اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر چلنے والے ہوں۔تب ہمارا معاشرہ اور ہماری مسجد میں مبارک بن سکتی ہیں۔معاشرہ کو صاف پاکیزہ اور مبارک بنانے میں عورتوں کا بڑا دخل ہے پس خود نمازی بنو اور اپنی اولادوں کو بھی نمازی بناؤ۔کیونکہ پاک ہونے کا ایک ذریعہ وہ نماز بھی ہے جو تضرع سے ادا کی جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔کوشش کرو کہ پاک ہو جاؤ کہ انسان پاک کو تب پاتا ہے کہ خود پاک ہو جاوے مگر تم اس نعمت کو کیونکر پاسکو! اس کا جواب خود خدا نے دیا ہے جہاں قرآن میں فرماتا ہے وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة (البقرة: 46) یعنی نماز اور صبر کے ساتھ خدا سے مدد چاہو۔نماز کیا چیز ہے؟ وہ دعا ہے جو تسبیح تخمید، تقدیس اور استغفار اور درود کے ساتھ تضرع سے مانگی جاتی ہے۔سو جب تم نماز پڑھو تو بے خبر لوگوں کی طرح اپنی دعاؤں میں صرف عربی الفاظ کے پابند نہ رہو۔کیونکہ ان کی نماز اور ان کا استغفار سب رسمیں ہیں۔جن کے ساتھ کوئی حقیقت نہیں۔لیکن تم جب نماز پڑھ تو بجر قرآن کے جو خدا کا کلام ہے اور بحر بعض ادعیہ ماثورہ کے کہ وہ رسول کا کلام ہے باقی اپنی تمام عام دعاؤں میں اپنی زبان میں ہی الفاظ متفرعانہ ادا کر لیا کرو۔تا کہ تمہارے دلوں پر اس عجز و نیاز کا کچھ اثر ہو۔نماز میں آنے والی بلاؤں کا علاج ہے تم نہیں جانتے کہ نیا دن چڑھنے والا