خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 439
439 ہوں۔یہ وہ نظام نو ہے جس کی بنیاد الوصیت کے ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ڈالی جس کی دیوار میں تحریک جدید کے ذریعہ حضرت مصلح موعود نے کھڑی کیں۔جس کی مزید تعمیر حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی تحریکات کے ذریعہ فرمارہے ہیں۔مبارک ہیں ہماری جماعت کی وہ بہنیں جو ان سب تحریکوں میں حصہ لے کر اس نظام نو میں ایک ایک اینٹ لگا ئیں گی۔مساجد کے قیام کی دوسری غرض مبارکا کے الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ کے گھر کا قیام مبارک ہوتا ہے۔اس لئے کہ وہاں ذکر اٹھی کیا جاتا ہے۔فضول اور گھریلوں باتوں سے اجتناب کیا جاتا ہے دنیوی کام مسجد میں سرانجام نہیں دیے جاتے وہاں خدا کا ذکر ہوتا ہے دعائیں ہوتی ہیں درود شریف پڑھا جاتا ہے جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی برکتیں اس مقام پر نازل ہوتی ہیں۔پس میری بہنو! مساجد کے قیام کی غرض ہم اسی وقت پوری کرنے والی بن سکتی ہیں۔جب ہماری جماعت کے ہر فرد کے ذریعہ ذکر الہی کا مقصد پورا ہو۔اللہ تعالیٰ کے ذکر کا یہ مطلب نہیں کہ صرف زبان سے سبحان اللہ الحمد للہ اور اللہ اکبر کہ دیا جائے۔بیشک زبان سے کہنا بھی ثواب ہے لیکن اس وقت جب دل بھی زبان کا ساتھ دے رہا ہو۔حقیقی ذکر یہ ہے کہ اپنے طریق عمل اپنے نمونہ اپنی زندگیوں اور اپنی اولادوں کی تربیت سے دنیا پر ثابت کر دیا جائے کہ ہمارے جسموں کا رواں رواں ہمارے دن اور رات کی ہر گھڑی اور ہمارے معاشرہ کا ہر فرد اللہ تعالیٰ کی عظمت پر دلیل ہے اس کی حمد کے ترانے گا تا اور اس کی کبریائی کا اقرار کرتا ہے۔منہ سے اللہ اکبر کہہ دینا اور اللہ تعالیٰ کے تعلقات پر دنیاوی تعلقات کو مقدم رکھنا ذکر الہی کے خلاف ہے حقیقی ذکر الہی کا قیام اس وقت ہو سکتا ہے۔جب ہر شخص کا دل اللہ تعالیٰ کی محبت سے اس طرح معمور ہو کہ وہ آگ میں پڑنا برداشت کرے۔مگر خدا تعالیٰ کے کسی حکم کوتوڑنا اور اس کی نافرمانی اسے گوارہ نہ ہو۔گھر میں بیٹھے ہوئے بھی ہم کو ذکر الہی میں مشغول رہنا چاہئے۔اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے کھاتے پیتے ہماری زبانوں اور ہمارے دلوں میں خدا کا نام ہو۔ہمارے ہر کام میں یہ مد نظر رہے کہ اس کام سے اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال بلند ہو۔احادیث میں آتا ہے کہ صحابہ میں نیکیوں میں ایک دوسرے سے بڑھنے اور آگے نکلنے کا بے حد شوق