خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 437
437 ان مساجد کا۔اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کو خیر امت کہا ہے جیسا کہ فرمایا :۔كنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ (ال عمران : 111) یہاں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امت محمدیہ کے ذمہ کسی ایک یادو شخص کی اصلاح کا کام نہیں ساری دنیا تک پیغام صداقت پہنچانا ہمارا کام ہے۔مردوں کا بھی اور عورتوں کا بھی پھر یہ نہیں فرمایا کہ تمہارا کام صرف نیکی کی تلقین یا نصیحت کرنا ہے۔تامُرُونَ کے الفاظ آئے ہیں جس کے معنی حکم کے ذریعہ کروانے کے ہیں۔یعنی نیکی زبر دستی کروانی ہے۔مجبور کرنا ہے نیکیاں کرنے کے لئے اور بدیاں چھوڑ دینے پر تا معاشرہ کے تمام افراد نیکی کے ایک زینہ پر اکٹھے ہو جائیں جب تک قوم نیکیوں کے لحاظ سے ایک سطح پر نہیں آجاتی۔قوم ترقی نہیں کر سکتی یہ نہیں کہ دو چار نمازی اور تہجد گزار ہیں چند روزے با قاعدہ رکھنے والیاں ہیں۔کچھ چندوں میں اچھی ہیں۔بعض اطاعت کے لحاظ سے قابلِ تعریف ہیں چند غرباء کا خیال رکھنے والیاں ہیں بلکہ ضروری ہے کہ قوم کی ہر عورت کا جذبہ اطاعت۔جذبہ قربانی۔جذبہ تبلیغ اور جذبہ عبادت یکساں ہو۔جب قوم کے افراد کا یہ معیار ہو جاتا ہے تو پھر اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا۔قوم اور معاشرہ میں مساوات پیدا کرنے کا ایک طریق یہ بھی ہے کہ آپس میں رشتہ کرتے وقت دینداری اور تقویٰ کو مد نظر رکھا جائے۔یہ نہ سوچا جائے کہ لڑکی کو جہیز کتنا ملے گا۔یاسرال والوں کے ہاں سے جوڑے دیں گے یا زیور۔اسلام کی تعلیم اور مساجد یہ سبق دیتی ہیں کہ تم سب ایک ہو۔رشتہ کرنے میں ذات پات۔امیری غریبی کو نہیں دیکھنا چاہئے۔صرف لڑکے اور لڑکی کی ذاتی نیکی۔تقوی اور اخلاق کو دیکھنا چاہئے۔میری بہنو! کیا یہ حقیقت نہیں کہ اپنے بچوں اور بچیوں کی دینی تعلیم اور تربیت میں ہم ہی روک ہیں۔ہمیں اس کی تو فکر ہوتی ہے کہ بچے امتحانوں میں پاس ہو جائیں۔بچہ اگر صبح کی نماز کے وقت نہیں اُٹھتا تو ماں کہتی ہے جگانا نہ !ارات بڑی دیر تک پڑھتا رہا ہے۔حالانکہ ایک دیندار ماں کا فرض ہے کہ وہ کہے پاس ہو یا فیل نماز وقت پر پڑھنی ہے