خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 436
436 پھر مسلمانوں پر اسلامی تعلیم اور مساجد کی تعمیر کی غرض کو بھلا دینے کی وجہ سے زوال آیا۔مسجد میں تو بڑی شاندار تعمیر کیں مگر ان میں نماز پڑھنے والے لوگ نہ رہے۔ان میں کوئی امامت باقی نہ رہی۔کسی کا دل چاہا پڑھ لی دل چاہانہ پڑھی۔حالانکہ قرآن مجید کی تعلیم کے مطابق نماز با جماعت مردوں پر فرض ہے۔نماز نہیں باجماعت نماز مسجد میں جا کر پڑھنے کے دوسرے معنے یہ ہیں کہ ایک محلہ کے سب لوگ نماز کے لئے پانچ وقت مسجد میں اکٹھے ہوں گے۔پانچ دفعہ وہ ایک دوسرے سے ملیں گے۔کندھے سے کندھا جوڑ کر کھڑے ہوں گے۔ان میں آپس میں ایک دوسرے سے محبت پیدا ہوگی۔اخوت کا سبق ملے گا پانچ دفعہ دن میں وہ امام کی آواز پر کبھی کھڑے ہوں گے۔کبھی بیٹھیں گے کبھی رکوع کریں گے۔اور کبھی سجدہ میں گریں گے۔اس طرح ان کو اطاعت کرنے کی تربیت حاصل ہوگی۔جس کو وہ مسجد میں نہ دیکھیں گے قدرتی خیال ہو گا کہ آج نماز سے غیر حاضر رہنے والا بیمار نہ ہو کسی مصیبت میں نہ پھنس گیا ہو۔وہ فوراًنماز کے بعد اس کا حال پستہ کرنے کی کوشش کریں گے۔اگر واقعی وہ بیمار یا کسی اور تکلیف میں مبتلا ہوا تو اس کی تکلیف کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔یہ جذبہ مساوات واخوت چودہ سو سال قبل مسلمانوں میں پیدا ہو گیا تھا۔ان سب کے دلوں کی تاریں ایک دوسرے سے ملتی تھیں یا بالفاظ دیگر ان سب کے جسموں میں ایک ہی دل دھڑکتا تھا۔وہ ایک کنگھی کے دانوں کی طرح تھے۔لیکن جب نماز با جماعت میں مسلمانوں نے آنا چھوڑا نہ خلافت باقی رہی نہ اخوت باقی رہی اور نہ وہ عظیم الشان مساوات جس کی دشمن بھی قسم کھاتا تھا۔اے احمد یہ جماعت کی خواتین! پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کے ذریعہ اس نئے آسمان اور نئی زمین کی بنیادیں ڈالی جاری ہیں۔جس کے قیام کی پیشگوئی اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کی تھی۔آپ نے مسجد میں تو تعمیر کر لی ہیں لیکن مسجدوں کے آبادرکھنے کا انتظام بھی آپ نے کرنا ہے۔مسجدوں کے لئے نمازی آپ کی گودوں میں پل کر جوان ہونے ہیں۔یہ ماں کا وجود ہی ہے کہ خواہ وہ اپنے بچوں کو نمازی بنادے یا شیطان۔مساجد کے صرف چندے دے کر خوش نہیں ہو جانا چاہئے کہ ہم نے زیور پیش کر دیئے یا بڑی رقوم ادا کر دیں۔بے شک یہ بھی بڑا بھاری ثواب ہے۔اگر محض اللہ کیا گیا ہو لیکن اگر مساجد تعمیر ہو جائیں اور ان میں نمازیں پڑھنے والا کوئی نہ ہو تو کیا فائدہ