خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 423
423 ہے اور جو اس سے زیادہ کرے وہ شیطان سے ہے۔(2) دوم برابر ایک سال تک سوگ رکھنا اور نئی نئی عورتوں کے آنے کے وقت یا بعض خاص دنوں میں سیا پا کرنا اور باہم عورتوں کا سر ٹکرا کر چلانا رونا اور کچھ کچھ منہ سے بھی بکواس کرنا اور پھر برابر ایک برس تک بعض چیزوں کا پکانا چھوڑ دینا اس عذر سے کہ ہمارے گھر میں یا ہماری برادری میں ماتم ہو گیا ہے یہ سب نا پاک رسمیں اور گناہ کی باتیں ہیں جن سے پر ہیز کرنا چاہئے۔(3) سیاپا کرنے کے دنوں میں بے جا خرچ بھی بہت ہوتے ہیں حرام خور عورتیں شیطان کی بہنیں جو دور دور سے سیا پا کرنے کے لئے آتی ہیں اور مکر و فریب سے منہ کو ڈھانپ کر اور بھینسوں کی طرح ایک دوسرے سے ٹکرا کر چیخیں مار کر روتی ہیں ان کو اچھے اچھے کھانے کھلائے جاتے ہیں اور اگر مقدور ہو تو اپنی شیخی اور بڑائی جتلانے کے لئے صد ہارو پی کا پلاؤ اور زردہ پکا کر برادری وغیرہ میں تقسیم کیا جاتا ہے اس غرض سے کہ لوگ واہ واہ کریں کہ فلاں شخص نے مرنے پر اچھی کرتوت دکھلائی اچھا نام پیدا کیا سو یہ سب شیطانی طریق ہیں جن سے تو بہ کرنا لازم ہے۔(4) اگر کسی عورت کا خاوند مر جائے تو گو وہ عورت جوان ہی ہو دوسرا خاوند کرنا ایسا بُرا جانتی ہے جیسا کہ کوئی بڑا بھاری گناہ ہوتا ہے اور تمام عمر بیوہ اور رانڈ رہ کر یہ خیال کرتی ہے کہ میں نے بڑے ثواب کا کام کیا ہے اور پاک دامن بیوی ہوگئی ہوں حالانکہ اس کے لئے بیوہ رہنا سخت گناہ کی بات ہے عورتوں کے لئے بیوہ ہونے کی حالت میں خاوند کر لیتا نہایت ثواب کی بات ہے ایسی عورت حقیقیت میں بڑی نیک بخت اور ولی ہے جو بیوہ ہونے کی حالت میں بُرے خیالات سے ڈر کر کسی سے نکاح کرلے اور نابکار عورتوں کے لعن طعن سے نہ ڈرے ایسی عورتیں جو خدا اور رسول کے حکم سے روکتی ہیں خود لعنتی اور شیطان کی چیلیاں ہیں جن کے ذریعہ شیطان اپنا کام چلاتا ہے جس عورت کو رسول اللہ ﷺ پیارا ہے اس کو چاہئے کہ بیوہ ہونے کے بعد کوئی ایمان دار اور نیک بخت خاوند تلاش کرے اور یا درکھے کہ خاوند کی خدمت میں مشغول رہنا بیوہ ہونے کی حالت کے وظائف سے صدہا درجہ بہتر ہے۔ملفوظات جلد پنجم ص 4746 28 فروری 1904 ء کو ایک شخص نے چند مسائل دریافت کئے۔ان میں یہ سوال بھی تھا کہ میت کے قل جو تیسرے دن پڑھے جاتے ہیں ان کا ثواب اسے پہنچتا ہے یا نہیں؟ حضرت اقدس نے فرمایا:۔قل خوانی کی کوئی اصل شریعت میں نہیں ہے۔صدقہ، دعا اور استغفار میت کو پہنچتے ہیں۔“ ملفوظات جلد سوم ص 605