خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 424
پھر فرمایا:۔424 ہمیں تعجب ہے کہ یہ لوگ ایسی باتوں پر امید کیسے باندھ لیتے ہیں۔دین تو ہم کو نبی کریم ﷺ سے ملا ہے۔اس میں ان باتوں کا نام تک نہیں۔صحابہ کرام " بھی فوت ہوئے کیا کسی کے قل پڑھے گئے۔صدہا سال کے بعد اور بدعتوں کی طرح یہ بھی ایک بدعت نکل آئی ہوئی ہے۔ملفوظات جلد سوم صفحہ 605 ایک شخص نے اسی مجلس میں آپ سے یہ سوال کیا کہ میت کے لئے فاتحہ خوانی کے لئے جو بیٹھتے ہیں اور فاتحہ پڑھتے ہیں؟ حضور نے جواب میں فرمایا: " یہ درست نہیں ہے۔بدعت ہے۔آنحضرت ﷺ سے یہ ثابت نہیں کہ اس طرح صف بچھا کر بیٹھتے اور فاتحہ خوانی کرتے تھے۔“ فاتحہ خوانی کے متعلق مزید فرمایا:۔ملفوظات جلد سوم صفحه 606 " نہ حدیث میں اس کا ذکر ہے نہ قرآن شریف میں نہ سنت میں ملفوظات جلد پنجم صفحہ 16 11 فروری 1906ء حضرت اقدس کی مجلس میں ایک شخص نے سوال کیا کہ میت کے ساتھ جولوگ روٹیاں پکا کریا اور کوئی شے لے کر با ہر قبرستان میں لے جاتے ہیں اور میت کو دفن کرنے کے بعد مساکین میں تقسیم کرتے ہیں اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ فرمایا: ” سب باتیں نیت پر موقوف ہیں اگر یہ نیت ہو کہ اس جگہ مساکین جمع ہو جایا کرتے ہیں اور مردے کو صدقہ پہنچ سکتا ہے ادھر وہ دفن ہوا دھر مساکین کو صدقہ دے دیا جاوے تا کہ اس کے حق میں مفید ہو اور وہ بخشا جاوے تو یہ ایک عمدہ بات ہے لیکن اگر صرف رسم کے طور پر یہ کام کیا جاوے تو جائز نہیں ہے 66 کیونکہ اس کا ثواب نہ مردے کے لئے اور نہ دینے والوں کے واسطے اس میں کچھ فائدے کی بات ہے۔“ ملفوظات جلد پنجم صفحه 6 فرمایا: ایک شخص نے سوال کیا کہ کسی شخص کے مرجانے پر جو اسقاط کرتے ہیں اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ بالکل بدعت ہے اور ہرگز اس کے واسطے کوئی ثبوت سنت اور حدیث سے ظاہر نہیں ہو سکتا۔“ ملفوظات جلد پنجم صفحه 7 ایک شخص نے دریافت کیا کہ مردے کو کھانے کا ثواب پہنچتا ہے یا نہیں؟