خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 422 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 422

422 ریا کاری کرتا ہے تو گناہ ہے غرض کوئی ایسا امر جس میں اسراف ریا، فستق ، ایذائے خلق کا شائبہ ہو وہ منع ہے اور جو ان سے صاف ہووہ منع نہیں گناہ نہیں کیونکہ اصل اشیاء کی حلت ہے۔“ وفات سے متعلق رسوم :۔ملفوظات جلد دوم صفحہ 311 تیسری قسم کی رسومات کا تعلق انسان کی وفات کے ساتھ ہے۔غیر احمدیوں میں تو قل ، چہلم ، دسواں ، چالیسواں نہ جانے کیا کیا ہوتا ہے الحمد للہ کہ احمدیوں میں چیزیں نہیں پائی جاتیں۔لیکن بعض بعض جگہ سے مستورات کے متعلق ایسا کرنے کی شکایات ملتی رہتی ہیں۔پس ایسی محفلوں میں شمولیت اور دوسروں کے ساتھ مل کر ایسی رسومات کرنا جو توحید کے سراسر خلاف ہیں گناہ ہے ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ حضرت اقدس فرماتے ہیں: " قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْيِيكُمُ الله - (ال عمران: 32) اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کا ایک یہی طریق ہے آنحضرت ﷺ کی سچی فرمانبرداری کی جاوئے۔دیکھا جاتا ہے کہ لوگ طرح طرح کی رسومات میں گرفتار ہیں۔کوئی مرجاتا ہے تو قسم قسم کی بدعات اور رسومات کی جاتی ہیں۔حالانکہ چاہئے کہ مُردہ کے حق میں دعا کریں رسومات کی بجا آوری میں آنحضرت ﷺ کی صرف مخالفت ہی نہیں ہے بلکہ ان کی بہتک بھی کی جاتی ہے اور وہ اس طرح سے کہ گویا آنحضرت ﷺ کے کلام کو کافی نہیں سمجھا جاتا۔اگر کافی خیال کرتے تو اپنی طرف سے رسومات کے گھڑنے کی کیوں ضرورت پڑتی۔ملفوظات جلد سوم صفحہ 316 پھر تفصیلی طور پر حضرت اقدس نے ذیل کی عبارت میں ان رسوم کی تشریح فرمائی کہ: (1) ماتم کی حالت میں جزع فزع اور نوحہ یعنی سیا پا کرنا اور چھینیں مار کر رونا اور بے صبری کے کلمات زبان پر لانا۔یہ سب باتیں ایسی ہیں کہ جن کے کرنے سے ایمان کے جانے کا اندیشہ ہے اور یہ سب رسمیں ہندوؤں سے لی گئی ہیں جاہل مسلمانوں نے اپنے دین کو بھلا دیا اور ہندوؤں کی رسمیں اختیار کر لیں کسی عزیز اور پیارے کی موت کی حالت میں مسلمانوں کے لئے قرآن شریف میں یہ حکم ہے کہ صرف إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (سورة البقره: 157) کہیں یعنی ہم خدا تعالیٰ کا مال اور ملک ہیں۔اسے اختیار ہے جب چاہے اپنا مال لے لے اور اگر رونا ہوتو صرف آنکھوں سے آنسو بہانا جائز 66