خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 415 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 415

415 إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَاكُمُ (الحجرات: 14) یعنی تم میں سے خدا کے نزدیک زیادہ تر بزرگ وہی ہے جو زیادہ تر پرہیز گار ہے ہماری قوم میں ایک یہ بھی بدرسم ہے کہ شادیوں میں صدہا روپیہ کا فضول خرچ ہوتا ہے۔سویا درکھنا چاہئے کہ شیخی اور بڑائی کے طور پر برادری میں بھاجی تقسیم کرنا اور اس کا دینا اور کھانا۔یہ دونوں باتیں عند الشرع حرام ہیں اور آتش بازی چلانا اور رنڈی بھڑوؤں ڈوم ڈھاریوں کو دینا۔یہ سب حرام مطلق ہے ناحق روپیہ ضائع جاتا ہے اور گناہ سر پر چڑھتا ہے سو اس کے علاوہ شرع شریف میں تو صرف اتنا حکم ہے کہ نکاح کرنے والا بعد نکاح کے ولیمہ کرے یعنی چند دوستوں کو کھانا پکا کر کھلا دیوے۔ملفوظات جلد پنجم ص 4948 حضرت مصلح موعود نے حضرت میر محمد اسحاق صاحب کی بڑی صاحبزادی سیدہ نصیرہ بیگم صاحبہ کی تقریب رخصتانہ کے موقع پر ایک اہم تقریر فرمائی تھی۔اس تقریر سے اصولی طور پر ان رسومات کے متعلق راہ نمائی حاصل ہوتی ہے۔جہیز کے متعلق آپ نے فرمایا:۔وو دوسری بات جہیز دینا ہے جس چیز کو شریعت نے مقرر کیا ہے وہ یہی ہے کہ مرد عورت کو کچھ دے عورت اپنے ساتھ کچھ لائے یہ ضروری نہیں ہے اور اگر کوئی اس کے لئے مجبور کرتا ہے تو وہ سخت غلطی کرتا ہے ہاں اگر اس کے والدین اپنی خوشی سے کچھ دیتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن یہ ضروری نہیں۔ہاں لڑکے والے نہ دیں گے تو یہ نا جائز ہوگا۔شریعت نے ہر مرد کے لئے عورت کا مہر مقرر کرنا ضروری رکھا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں:۔اس میں شبہ نہیں کہ جہیز اور بری کی رسوم بہت بُری ہیں۔اس لئے جتنی جلدی ممکن ہو ان کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے۔ایسی وباء اور مصیبت جو گھروں کو تباہ کر دیتی ہے اس قابل ہے کہ اسے فی الفور مٹا دیا جائے اور میں نے دیکھا ہے کہ اچھے اچھے گھرانے اس رسم میں بہت بُری طرح مبتلا ہیں۔و لیکن اس کے معنے یہ نہیں کہ جہیز بھی اگر کوئی دے سکے تو نہ دے۔ایسے موقعوں پر ہمارے لئے سنت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا طرز عمل ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے جو مامور آیا اس کی وحی تازہ بہ تازہ ہے اور جو کچھ اس نے کہا وہ اس رس کی طرح ہے جو تازہ پھل سے نچوڑا گیا ہو۔پس اس کا عمل ہی صحیح سنت اور تعلیم اسلام ہے۔