خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 416 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 416

416 جو یہ کہے کہ جہیز نہیں دینا وہ غلطی کرتا ہے اور جہیز ضرور دینا چاہئے تو وہ بھی بدعت پھیلانے والوں میں سے ہے لیکن اگر کوئی شخص اپنی خوشی سے لڑکی کو کچھ دیتا ہے تو یہ ہر گز بدعت نہیں کہلاسکتی اصل بات یہ ہے کہ اپنی استطاعت کے مطابق اگر کوئی دیتا ہے تو اچھی بات ہے لیکن جو شخص یہ معمولی چیز بھی دینے کی استطاعت نہیں رکھتا اور پھر زیر بار ہو کر ایسا کرتا ہے تو شریعت اسے ضرور پکڑے گی۔چونکہ اس نے اسراف سے کام لیا حالانکہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے اسراف و تبذیر سے منع فرمایا ہے جیسے ارشاد ہے لَا تُبَدِّرُ تبذِيرًا (بنی اسرائیل : 27) اور اسراف کرنے والوں کو شیطان کا بھائی کہا ہے لیکن اگر کوئی اپنی طاقت اور خوشی کے مطابق اس سے بہت زیادہ بھی دے دیتا ہے تو اس میں مضائقہ نہیں اگر آج ایک شخص اس قدر حیثیت رکھتا ہے کہ وہ لڑکی کو دس ہزار روپے دے سکتا ہے بے شک دے۔اگر اس کے بعد اس کی حالت انقلاب دہر کے باعث ایسی ہو جائے کہ دوسری لڑکی کو کچھ بھی نہ دے سکے تو اس میں اس پر کوئی الزام نہیں آسکتا کیونکہ پہلی کو دیتے وقت اس کی نیت یہی تھی کہ سب کو دے اب حالات بدل گئے۔مختصر یہ کہ بدعت وہ ہے جسے لوگ قطعی حکم نہ ہونے کے باوجود پابندی سے اختیار کریں اور وہ اسلام سے ثابت نہ ہو۔لیکن لوگوں انہ کے کہنے سے اس کو ضروری سمجھا جائے یہ نمائش ہوتی ہے۔اقتباس از تقریر حضرت مصلح موعود مصباح مئی 1930 م تحریک جدید کی غرض سادگی کا قیام: تحریک جدید کی غرض بھی یہی تھی۔حضرت مصلح موعود کو اللہ تعالیٰ نے جماعت کی ترقی کے لئے تحریک جدید کے اصول القاء فرمائے تھے کہ جماعت کی ترقی وابستہ ہے سادگی کے اصولوں پر چلنے سے تقریبات سادگی سے کرنے اور اسراف سے بچنے اور اپنے روپے کو بچا کر اشاعت اسلام میں خرچ کرنے سے یہی غرض ہے۔اسی غرض سے حضرت مصلح موعود نے شادیوں میں سادگی اختیار کرنے کا حکم فرمایا۔بری اور جہیز کی نمائش سے منع فرمایا۔نمائش کرنے کے نتیجہ میں ایک دوسرے کی نقل کی جاتی ہے اور جو غریب گھرانہ اتنا سامان جہیز میں بیٹی کو نہیں دے سکتا۔وہ اپنے ہمسایہ کی نقل میں قرض لے کر اتنا دینے کی کوشش کرتا ہے سسرال والوں کو جوڑے دینے سے منع فرمایا۔مہندی لڑکی کے گھر لے جانے سے خاص طور پر روکا کہ یہ ایک فضول رسم ہے۔مہندی بے شک دلہن کے لگائی جائے لیکن اس کے گھر والے بچی کو گھر میں لگا دیں اس کے لئے نمائش کرتے ہوئے سرال سے مہندی لے کر جانے اور ایک علیحدہ تقریب پیدا کرنا محض نمائش اور اسراف ہے۔