خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 414 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 414

414 لڑکی کے گھر مہندی لے جانے سے حضرت مصلح موعود نے منع فرمایا اور شوری 42ء میں بھی اس کے متعلق فیصلہ کیا گیا: شادیوں میں خوشی کا اظہار بعض گھرانوں میں بے ہودہ گانوں اور باجا وغیرہ بجانے سے بھی کیا جاتا ہے جہاں تک گانے کا سوال ہے اگر بے ہودہ نہ ہوں تو ان کی اجازت ہے لیکن باقی باجے بجانے یا ناچ وغیرہ نا جائز ہے۔نکاح پر با جا بجانے اور آتش بازی چلانے کے متعلق کسی نے حضور سے سوال کیا۔آپ نے فرمایا: ”ہمارے دین میں دین کی بناء یسر پر ہے عسر پر نہیں اور پھر اِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ ضروری چیز ہے باجوں کا وجود آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں نہ تھا اعلان نکاح جس میں فسق و فجور نہ ہو جائز ہے۔بلکہ بعض صورتوں میں ضروری شئے ہے کیونکہ اکثر دفعہ نکاحوں کے متعلق مقدمات تک نوبت پہنچتی ہے پھر وراثت پر اثر پڑتا ہے۔اس لئے اعلان کرنا ضروری ہے مگر اس میں کوئی ایسا امر نہ ہو جو فسق و فجور کا موجب ہو۔رنڈی کا تماشا یا آتش بازی فسق و فجور اور اسراف ہے۔یہ جائز نہیں۔ملفوظات جلد سوم صفحہ 227 پھر فرماتے ہیں: ”جو چیز بُری ہے وہ حرام ہے اور جو چیز پاک ہے وہ حلال خدا تعالیٰ کسی پاک چیز کو حرام قرار نہیں دیتا بلکہ تمام پاک چیزوں کو حلال فرماتا ہے۔ہاں جب پاک چیزوں ہی میں بُری اور گندی چیزیں ملائی جاتی ہیں تو وہ حرام ہو جاتی ہیں اب شادی کو دف کے ساتھ شہرت کرنا جائز رکھا گیا ہے لیکن اس میں جب ناچ وغیرہ شامل ہو گیا تو وہ منع ہو گیا اگر اسی طرح پر کیا جائے جس طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا تو کوئی حرام نہیں۔“ ملفوظات جلد پنجم صفحہ 354 355 رشته کرتے وقت صرف تقویٰ مدنظر رهے: حضرت اقدس بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں:۔ہماری قوم میں یہ بھی ایک بد رسم ہے کہ دوسری قوم کولڑ کی دینا پسند نہیں کرتے بلکہ حتی الوسع لینا بھی پسند نہیں کرتے۔یہ سراسر تکبر اور نخوت کا طریقہ ہے جو احکام شریعت کے بالکل بر خلاف ہے۔بنی آدم سب خدا تعالیٰ کے بندے ہیں رشتہ ناطہ میں یہ دیکھنا چاہئے کہ جس سے نکاح کیا جاتا ہے وہ نیک بخت اور نیک وضع آدمی ہے اور کسی ایسی آفت میں مبتلا تو نہیں جو موجب فتنہ ہو اور یا درکھنا چاہئے کہ اسلام میں قوموں کا کچھ بھی لحاظ نہیں صرف تقویٰ اور نیک بختی کا لحاظ ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔