خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 401 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 401

401 محمود ہستی تک پہنچنے کے راستہ کی طرف لے جائے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے کہ قرآن کریم ایک روشنی ہے جس کے ذریعہ سے آنحضرت ﷺ لوگوں کو اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائیں گے اور وہ روشنی کا راستہ وہی راستہ ہے جو عزیز وحمید خدا کی طرف جاتا ہے۔یہ آیت واضح طور پر بتاتی ہے کہ رسم و رواج پر چل کر انسان خدا کا نور حاصل نہیں کرسکتا۔بلکہ برادری اور رسوم سب پر لات مار کر اللہ تعالیٰ کے ان احکام پر جو اس نے قرآن مجید میں بیان فرمائے ہیں۔عمل پیرا ہو کر خدا تعالیٰ تک پہنچنے کے راستہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ہے قصور اپنا ہی اندھوں کا وگرنہ وہ نور ایسا چکا ہے کہ صد تیر بیضاء نکلا زندگی ایسوں کی کیا خاک ہے اس دنیا میں جن کا اس نور کے ہوتے بھی دل ائمی نکلا مذکورہ بالا تینوں آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان کی روحانی ترقی صرف اس صورت میں ہو سکتی ہے کہ ہر کام کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ کی کامل اطاعت کی جائے اور دیکھ لیا جائے کہ اس کام کے متعلق قرآن مجید کیا تعلیم دیتا ہے اور آنحضرت ﷺ کے ارشادات اور آپ کا عمل اس بارہ میں کیا تھا۔آنحضرت ﷺ کے زمانہ سے جوں جوں بعد ہوتا گیا مسلمان رسم و رواج کے پھندوں میں گرفتار ہوتے گئے۔نام کا اسلام رہ گیا شریعت پر عمل نہ رہا۔ہندوؤں اور عیسائیوں کی ہمسائیگی میں ان کے طور و طریق اختیار کر لئے اور وہ وہ رسوم رائج ہوئیں جن کا اسلام سے دور کا تعلق بھی نہ تھا۔اللہ تعالیٰ کا امت محمدیہ پر خاص فضل ہوا کہ آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں اور اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق حضرت اقدس موعود امام الزمان تشریف لائے تا کہ اس اثر کو مسلمانوں پر سے دور کر دیں جو مسلمانوں پر چھایا ہوا تھا۔چنانچہ جنہوں نے حضور کو مانا انہوں نے سب کچھ چھوڑ دیا۔اور ظلمت سے نکل کر نور کے سایہ تلے آگئے۔انہوں نے خود محسوس کیا کہ آج تک ہم اندھیروں میں بھٹک رہے تھے۔حضرت اقدس نے بھی دل کی صفائی کا یہی طریق بتایا ہے کہ آپ کی مکمل اطاعت کی جائے۔چنانچہ حضور وو فرماتے ہیں:۔غرض اس خانہ کو ( مراد دل۔ناقل ) بتوں سے پاک وصاف کرنے کے لئے ایک جہاد کی