خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 400 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 400

400 ظَهَرَتْ عَلَيْهِمْ بَيِّنَاتُ رَسُوْلِهِمْ فَتَمَزَّقَ الْأَهْوَاءُ كَالاَوثَانِ ترجمہ: کہ انہوں نے تجھے اختیار کیا اور اپنے دوستوں سے جدا ہو گئے۔اور اپنے بھائیوں سے علیحدگی اختیار کر لی۔انہوں نے اپنی خواہشات اور نفسوں کو الوداع کہہ دیا۔اور ہر قسم کے فانی مال و منال سے بیزار ہو گئے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے واضح اور روشن دلائل ان پر ظاہر ہوئے تو ان کی نفسانی خواہشیں بتوں کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہو گئیں۔اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یوں بیان فرمایا ہے۔قَدْ اَنْزَلَ اللهُ إِلَيْكُمُ ذِكْرًا رَسُولاً۔مِنَ الظُّلُمتِ إِلَى النُّورِ۔(سورة الطلاق 11، 12) ترجمہ : اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے شرف کا سامان یعنی رسول اتارا ہے جو تم کو اللہ تعالیٰ کی ایسی آیات سناتا ہے جو ہر نیکی اور بدی کو کھول دیتی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مومن لوگ جو اپنے ایمان کے مطابق عمل کرتے ہیں وہ اندھیروں سے نکل کر نور میں آجاتے ہیں۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے اور آپ کے بتائے ہوئے طریق پر چلنے کے نتیجہ میں انسان اندھیرے سے نکل کر ایمان کے اجالے میں آ جاتا ہے۔یہ کون سا اندھیرا ہوتا ہے؟ یہ اندھیرا شرک و بدعت اور رسوم کا اندھیرا ہوتا ہے جس نے انسان کے گرد جالے تنے ہوئے ہوتے ہیں۔جو آنحضرت ﷺ کی کامل اطاعت اور آپ کے نقش قدم پر چلنے سے ٹوٹنے شروع ہو جاتے ہیں۔اب بھی اگر اپنے معاشرے سے ہم نے رسومات کے اندھیروں کو دور کرنا ہے تو اپنے ہر کام میں اس بات کو مد نظر رکھنا ہوگا کہ ہمارا یہ کام سنت رسول اللہ ﷺ کے مطابق ہے یا نہیں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی سورۃ ابراہیم میں فرماتا ہے:۔كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَى صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ - (ابراهيم : 2) ترجمه: (یہ قرآن مجید) ایک کتاب ہے جسے ہم نے تجھ پر اس لئے اتارا ہے کہ تو تمام لوگوں کو ان کے رب کے حکم سے ظلمت سے نکال کر نور کی طرف یعنی اس کامل طور پر غالب اور کامل