خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 395
395 مقام حاصل ہو وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا بھی ہو۔وہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والا بھی ہو وہ ہر اس بات سے ڈرے اور خوف کھائے۔جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔جب وہ اپنے افعال اور زندگی کو گنا ہوں سے دور رکھے گا اور کوشش کرے گا کہ تقویٰ کا مقام مجھے حاصل ہو تو اللہ تعالیٰ اسے توفیق عطا کرے گا کہ وہ قرآن کا علم سیکھ سکے۔پس میں اس دعا کے ساتھ اپنی تقریر کو ختم کرتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ یہاں کی تمام بہنوں کو توفیق عطا فرمائے کہ وہ قرآن شریف کا ترجمہ پڑھنے والیاں ہوں اور بہت جلد وہ دن آئے کہ یہاں کی ایک عورت کے متعلق بھی یہ نہ کہا جاسکے کہ اس کو قرآن کا ترجمہ نہیں آتا۔کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی زندگی کے نصب العین کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم قرآن کی تعلیم کو دنیا کے کونے کونے تک پھیلانے والے ہوں اور بہت جلد ہماری زندگیوں میں انقلاب آ جائے۔کہ احمدیہ جماعت کی ہر عورت اور بچی کے اخلاق و کردار وہی ہو جائیں جو کہ 1300 سال پہلے کے مسلمانوں کے تھے اور جو قرآن مجید نے پیش کئے ہیں اور جس کے مطابق ہمیں اپنی زندگیاں ڈھالنی ضروری ہیں اور ہم میں سے ہر ایک کا کردار خواہ وہ مرد ہو یا عورت لڑکا ہو یا لڑکی اس کی زندگی خدا کی خاطر ہو۔جیسا کہ نبی کریم نے فرمایا تھا کہ میری زندگی ، میری موت ، میری عبادتیں اور میری نمازیں سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جو سب جہانوں کا رب ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو یہ توفیق عطا فرمائے کہ ہم قرآن کی تعلیم کے مطابق عمل کرنے والے ہوں قرآن کی تعلیم کو دنیا میں پھیلانے والے ہوں۔قرآن کی تعلیم کی اشاعت کرنے والے ہوں۔اور دنیا میں معلم قرآن بن کر زندگی بسر کرنے والے ہوں میں امید کرتی ہوں کہ اس کلاس نے جو بیج ڈالا ہے وہ بڑھے گا اور بڑھ کر ایک تناور درخت بنے گا۔اور انشاء اللہ بہت جلد سرگودھا کی عورتیں اور بچیاں قرآن مجید کی تعلیم سے پوری طرح واقف ہو جائیں گی۔خدا کرے ایسا ہی ہو۔آمین مصباح نومبر 1966ء