خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 394
394 ڈھالنی شروع کر دیں۔اللہ تعالیٰ ان کو غلبہ عطا کرے گا لیکن اگر ہماری طرف سے کچھ کمزوریاں ہوئیں تو یہ وعدہ دیر کے بعد بھی پورا ہو سکتا ہے۔اس لئے یہ نہایت ضروری ہے۔جماعت کی ترقی کے لئے احمدیت کی ترقی کے لئے اور اسلام کی ترقی کے لئے کہ ہماری جماعت کی ہر عورت اور ہر بچی قرآن مجید کی تعلیم سے واقف ہو۔ہر ایک کو قرآن مجید کا ترجمہ آتا ہو۔جب ترجمہ آ جائے گا جب معنی آجائیں گے تو پھر اس پر عمل کرنا بھی مشکل نہ ہوگا۔ایک معمولی سی بات ہے۔اگر آپ ایک بچے کو کہہ دیں کہ اس بل میں سانپ ہے اس میں ہاتھ ڈال دو تو وہ کبھی بھی ایسا نہیں کرے گا۔کیونکہ اسے پتہ ہے کہ اگر وہ اس میں ہاتھ ڈالے گا تو سانپ کاٹ کھائے گا اگر آپ کے سامنے آپ کی سہیلی زہر کی پڑیا ر کھے اور کہے کہ یہ زہر کی پڑیا ہے آپ اس کو منہ میں ڈال لیں۔آپ اسے کبھی بھی منہ میں نہیں ڈالیں گی۔کیونکہ آپ کو پتہ ہے اگر آپ زہر کھائیں گی تو مر جائیں گی۔اگر آپ کو کوئی کہے کہ آگ کے اندر ہاتھ ڈال دو چونکہ آپ کو آگ کی تاثیر کا علم ہے آپ کبھی بھی آگ میں ہاتھ نہیں ڈالیں گی۔لیکن گناہوں پر انسان اس لئے دلیر ہوتا ہے اور وہ گناہوں سے اس لئے نہیں بچ سکتا کہ اس کو گناہ کی اہمیت کا پتہ نہیں ہوتا۔اس کو خوف نہیں ہوتا اور اس کو اسلام کی صحیح تعلیم کاعلم نہیں ہوتا۔اس کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے رکس رکس بات سے روکا ہے اور رکس کس بات کا حکم دیا ہے۔لیکن جب ہم قرآن پڑھتے ہیں تو ہمارا دل روشن ہو جاتا ہے۔ہمیں ان باتوں سے جن کو اللہ تعالیٰ منع فرماتا ہے خوف آتا ہے۔خدا تعالیٰ کا ڈر پیدا ہوتا ہے۔انسان کا دل استغفار پڑھنے لگتا ہے اور جب ان قوموں کا ذکر پڑھتے ہیں۔جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا۔تو خود بخو دانسان کے دل سے دعا نکلتی ہے کہ اے اللہ تو مجھے ایسا نہ بنائیو۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ملفوظات میں ایک جگہ یہ لکھا ہے کہ قرآن پڑھنے کا بہترین طریق یہ ہے کہ جب اسے پڑھو تو جہاں جہاں خدا کی رحمتوں کا ذکر ہو وہاں تو خدا کا شکر ادا کرو۔اور پناہ مانگو اس بات سے کہ اللہ تعالیٰ تم پر بھی ایسا عذاب نازل نہ کرے۔لیکن جب تک ہم قرآن کو پڑھیں گے نہیں۔اپنی زندگیوں کو اپنے کردار کو، اپنے افعال کو، اپنے اخلاق کو اور اپنی عادتوں کو اس تعلیم کے مطابق نہیں ڈھال سکتے جو قر آنی تعلیم کہلاتی ہے قرآن مجید کی تعلیم اس کا ترجمہ اور اس کے مطالب سیکھنے کے لئے ایک یہ گر بھی یادرکھنا چاہئے جو قرآن مجید خود پیش کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے: لا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعه: 80) (که قرآن مجید کووہی لوگ چھو سکتے ہیں وہی اس کا عرفان حاصل کر سکتے ہیں جو پاکیزہ ہوں) گویا قرآن سیکھنے کے لئے۔قرآن سمجھنے اور اس کے معارف حاصل کرنے کے لئے یہ بڑا ضروری ہے کہ انسان کا دل پاک ہو۔اسے تقویٰ کا