خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 381 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 381

381 چاہتے ہیں۔تا کہ بیوی بچوں کی مشکلات کو دور کرسکیں۔اس طرح عورتیں اشاعت اسلام میں رخنہ ڈالنے کا موجب بنتی ہیں۔کیا صحابیات ہماری جیسی عورتیں نہیں تھیں؟ کیا حضرت خدیجہ اور حضرت عائشہ ہمارے جیسی عورتیں نہیں تھیں؟ حضرت خدیجہ نے شادی کے بعد اپنے تمام اموال، زیور اور غلام آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کر دیئے۔حضرت عائشہ کو آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد بے انتہا مال و متاع ملا۔ہر صحابی اور ہر مسلمان کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ آنحضرت ﷺ تو ہم میں موجود نہیں۔اس لئے حضرت عائشہ کی خدمت میں نذرانہ پیش کریں۔ہزاروں اور لاکھوں دینا ر آپ کے پاس ہوتے تھے۔مگر آپ اپنے اوپر کبھی خرچ نہیں کرتی تھیں۔ضرورت مندوں۔غرباء اور مساکین میں تقسیم فرما دیتی تھیں۔وہ بھی عورتیں تھیں۔انہوں نے اپنی خواہشات کو خدا تعالیٰ کے لئے اور اسلام کی سربلندی کے لئے قربان کر دیا۔اگر ان کا بچہ یا خاوند جنگ میں جانے سے گریز کرتا تو سخت ناراض ہوتیں اور اپنے بیٹوں کو کہتیں کہ اگر تم جنگ میں نہ گئے اور اسلام کی خاطر نہ لڑے تو ہم تمہیں دودھ نہیں بخشیں گی۔اور خاوند کو کہتیں کہ ہم برداشت نہیں کر سکتیں کہ رسول اللہ ﷺ جنگ پر جارہے ہوں اور تم گھروں میں بیٹھے رہو۔اگر آج احمدی عورتوں میں وہی جذبہ اور وہی قربانی کی روح اور وہی خصوصیات پیدا ہو جا ئیں جو ان صحابیات میں تھیں۔اگر آج وہ اسلام اور کفر کی آخری جنگ میں اس طرح حصہ لیں جس طرح صحابیات نے کفر کے خلاف جنگوں میں حصہ لیا تو احمدی عورتیں بھی وہی درجات حاصل کر سکتی ہیں جو صحابیات نے حاصل کئے۔یہ نہیں کہنا چاہئے کہ احمدی عورتوں میں اس جذبہ اور اس قربانی کی مثالیں نہیں ہیں۔احمدی خواتین میں بھی ایسی مثالیں پائی جاتی ہیں جنہوں نے شاندار قربانی کا مظاہرہ کیا۔حضرت درد صاحب مرحوم حضرت مولوی رحمت علی صاحب مرحوم۔حضرت مولوی شمس صاحب مرحوم کی بیویوں کی مثالیں موجود ہیں اور خاوند مسلسل کئی کئی سال تک باہر رہے۔مگر وہ حرف شکایت زبان پر نہ لائیں۔آج اسلام کو اشد ضرورت ہے اس بات کی کہ ایسے مبلغین اور واقفین سامنے آئیں جو اشاعت اسلام کے لئے ملک ملک، قریہ قریہ، اور بستی بستی پھیل جائیں۔لیکن آئندہ جب اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق جو اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کئے ہیں۔اسلام کو غلبہ ہو جائے گا اور اسلام تمام دنیا میں پھیل جائے گا تو اس وقت نہ اتنے مجاہدین کی ضرورت ہوگی نہ مبلغین کی اللہ تعالیٰ نے ہمیں سنہری موقعہ عطا فرمایا ہے کہ قربانیاں کر کے ثواب حاصل کریں۔زندگیاں تو مردوں نے وقف کرنی ہیں۔مگر عورتیں مردوں کو اپنے اثر سے اور ترغیب دلا کر وقف کروا کے اس ثواب میں حصہ دار بن سکتی ہیں۔